مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 609

609 گھوڑیاں چرائی تھیں ، ایک اور مقدمہ میں گورداسپور عدالت میں پیش ہوئے۔مسٹر ا و کلی ڈی۔سی کی عدالت میں وہ چور پیش ہوئے۔وہ احمدیوں کے اخلاق کے بہت مداح تھے۔کسی شخص نے انہیں بتایا کہ یہ لوگ بہت سخت ہیں۔انہوں نے قادیان کے مرزا صاحب کی گھوڑیاں بھی چرالی تھیں جس مقدمہ میں وہ چور عدالت میں پیش ہوا تھا اس کی سزا دو سال سے سات سال تک ہو سکتی تھی لیکن ڈی سی نے مجرم کو مخاطب کر کے کہا تمہارے جرم اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں تم کو دو سال کی سزا دیتا ہوں اور پانچ سال مرزا صاحب کی گھو زیاں چرانے کی سزا دیتا ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سزا ابھی کم تھی۔سات سال کی قید کے بعد جب وہ چور رہا ہو کر گھر آیا تو اس کی غیر حاضری میں اس کی بیوی آوارہ ہو چکی تھی۔اس نے اسے قتل کر دیا اور خود پھانسی پر چڑھ گیا۔غرض جب کوئی شخص سچائی کے ساتھ کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ خود اس کا بدلہ لیتا ہے۔مغلہ جب احمدی ہوئے تو انہوں نے قومی عادت یعنی چوری کو ترک کر دیا اور جھوٹ بولنا بھی چھوڑ دیا کیونکہ یہ ابتدائی جرم ہوتا ہے۔ان کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مغلہ کا فر ہو گیا ہے لیکن بعد میں پتہ لگا کہ ان کالڑ کا کافر ہو کر سچ بولنے لگ گیا ہے اور چوری بھی اس نے چھوڑ دی ہے۔چور چوریاں کرتے تھے اور پولیس اور دوسرے لوگ ان کا تعاقب کرتے تھے۔عدالتوں میں بات اور ہوتی ہے اور انسان وہاں جھوٹ بول کر گزارہ کر لیتا ہے لیکن برادری یا پنچائیت میں یہ بات مشکل ہوتی ہے کہ کوئی اپنا قصور چھپالے۔عدالتوں میں بتانے والے لوگ نہیں ہوتے اس لئے مجرم جو چاہے بیان دے دے لیکن برادری اور پنچائیت میں وہ اگر جھوٹ بولے گا تو فور ا بعض واقف لوگ کھڑے ہو جائیں گے جو اس کا جھوٹ ظاہر کر دیں گے۔غرض جب چور چوریاں کر کے گھروں میں واپس آتے تو تعاقب کرنے والے بھی پہنچ جاتے اور کہتے تم نے ہمارا مال چرایا ہے لیکن وہ کہتے نہیں اور اکثر قرآن کریم بھی اٹھا لیتے۔لوگ چونی اٹھنی پر قسمیں کھا لیتے ہیں۔پھر بھینسیں یا گائے پر وہ قرآن کریم کیوں نہ اٹھاتے۔تعاقب کرنے والے چوروں کی قسموں پر اعتبار نہ کرتے اور کہتے لاؤ مغلے کو۔اگر وہ کہہ دے کہ تم نے مال چوری نہیں کیا تو ہم مان لیں گے۔وہ وہاں پہنچتے اور مغلے سے کہتے تم گواہی دو کہ ہم نے ان کا مال نہیں چرایا۔وہ کہتے میں کیسے کہوں کہ تم نے مال نہیں چرایا۔کیا تم فلاں مال چرا کر نہیں لائے۔ان کے بھائی کہتے کیا تم ہمارے بھائی ہو یا ان کے بھائی۔وہ کہتے اس میں کوئی شک نہیں کہ تم میرے بھائی ہو لیکن کیسے ہو سکتا ہے کہ میں جھوٹی گواہی دوں۔وہ انہیں مارتے پیٹتے اور سمجھتے کہ اب مار کھا کر اسے عقل آگئی ہو گی لیکن وہ دوبارہ یہی کہہ دیتے کہ تم نے چوری کی ہے۔میاں مغلہ سنایا کرتے تھے کہ جب کوئی چوری کا معاملہ میرے سامنے آتا تو میں خیال کر تاکہ اگر سچ بولا تو میرے بھائی اور دوسرے رشتہ دار مجھے ماریں گے اور اگر جھوٹ بولا تو گناہ گار ہو جاؤں گا اس لئے میں کہہ دیتا، میں تو آپ کے نزدیک کا فر ہوں پھر آپ میری گواہی کیوں لیتے ہیں وہ کہتے تم کافر تو ہو لیکن بولتے سچ ہو۔پھر میں