مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 603

603 پھرے یا یہ بہتر ہو گا کہ وہ آپ کے لئے قربانیاں کرے۔رسول کریم ملی ویلا لیلی نے عکرمہ کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا۔عکرمہ کی بیوی نے دوبارہ عرض کیا یا رسول اللہ " عکرمہ اسلام سے اتنا متنفر ہے کہ اگر آپ نے فرمایا کہ اسے یہاں آکر مسلمان ہونا پڑے گا تو وہ نہیں آئے گا۔رسول کریم ملی میللی امام نے فرمایا ہم اسے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہیں گے۔عکرمہ حبشہ کی طرف بھاگ رہا تھا اور قریب تھا کہ کشتی میں سوار ہو جائے کہ اس کی بیوی وہاں پہنچی۔اس نے کہا میرے خاوند ! تم مکہ کے در چوال رولر Viritual Ruler کے بیٹے تھے اور اب غیروں میں دھکے کھاؤ گے۔کیا یہ بہتر نہیں کہ تم غیروں میں دھکے کھانے کی بجائے اپنے ایک رشتہ دار کی اطاعت کرلو۔عکرمہ ! نے جواب دیا میں اسلام کا دشمن ہوں اور ساری عمر دشمنی کرتا رہا ہوں۔اب جب مسلمانوں کو فتح ہو گئی ہے وہ میرے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہم ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔اس کی بیوی نے کہا میں یہ بات کر آئی ہوں۔رسول کریم ملی اہلیہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم واپس چلے آؤ تو آپ معاف فرما دیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ جی چاہے تو مسلمان ہو جائے ورنہ اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔عکرمہ نے تعجب سے کہا کیا یہ بات بچی ہے۔اس کی بیوی نے کہا میں نے دو بدو باتیں کی ہیں۔چنانچہ وہ واپس آگیا اور کہا مجھے محمد رسول الله ملی می میریم کے پاس لے چلو۔چنانچہ وہ اسے آپ کے پاس لے گئی۔عکرمہ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔کیا یہ ٹھیک ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں! اس نے ٹھیک کہا ہے۔عکرمہ نے کہا میری بیوی نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ مجھے اپنے مذہب میں داخل ہونے کے لئے مجبور نہیں کریں گے۔کیا یہ ٹھیک ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں ! اس نے ٹھیک کہا ہے۔یہ سنتے ہی عکرمہ کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے کہا اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبده و رسوله - رسول کریم ملی لیم کو اس سے حیرت ہوئی۔عکرمہ نے کہا وہ شخص جو میرے جیسے دشمن کو معاف کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ میں اپنا مذہب تبدیل کر کے اس کے مذہب میں داخل ہو جاؤں وہ عام انسان نہیں ہو سکتا۔وہ یقینا خد اکار سول ہے اس لئے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔رسول کریم ملی یا لیلی دیوی نے فرمایا عکرمہ میں نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اگر تمہاری کوئی خواہش ہو تو بیان کرو۔اگر وہ ہماری طاقت میں ہوئی تو ہم اسے پورا کریں گے لیکن وہ شخص جو دنیاوی و جاہت کے لئے اپنی ساری عمر اڑ تا رہا کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔آپ دعا فرما ئیں کہ خدا تعالیٰ میرے تمام گناہ معاف کر دے۔یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو عکرمہ میں پیدا ہوا۔پس مخالفت گو راستی سے دور لے جانے والی ہے لیکن یہ بعض اوقات راستی کی طرف لانے کا موجب بھی بن جاتی ہے۔دنیا احمدیت کی مخالفت اس لئے نہیں کرتی کہ یہ بچی ہے بلکہ وہ اس لئے مخالفت کرتی ہے کہ وہ سمجھتی ہے یہ جھوٹ ہے۔ہاں کچھ صاحب اغراض بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے احمدیت کو قبول کر لیا تو ہماری نمبر داریاں اور حکومتیں جاتی رہیں گی لیکن مخالفین کا اکثر حصہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم خدا اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔آپ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کا ایمان لانا بھی آسان ہے اور ان کا قابل رحم ہو نا بھی یقینی ہے۔اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ ہم خدا اور اس