مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 50
50 قائل ہیں۔شیعہ لوگوں نے گو اس رنگ میں قرآنی آیات کو منسوخ قرار نہیں دیا مگر انہوں نے اتنا ضرور کہہ دیا ہے کہ قرآن کریم کے بعض حصے اڑا لئے گئے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اور اس کی صفات کے متعلق مسلمانوں میں بیسیوں غلطیاں پائی جاتی ہیں۔یہ نہیں کہ شروع سے مسلمانوں میں یہ غلطیاں پائی جاتی تھیں۔بلکہ قریب زمانہ میں آکر مسلمانوں میں یہ غلطیاں پیدا ہوئی ہیں ورنہ قرون اولیٰ کا لٹریچر انہیں عقائد کی تائید کرتا ہے جو آج ہماری طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔سوائے اس حصہ قرآن کی تشریح کے جو اس زمانہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا بلکہ موجودہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔قرآن کریم کے بعض حصے ایسے ہیں جو پہلے زمانہ سے تعلق رکھتے تھے اور بعض حصے ایسے ہیں جو خصوصیت سے اس زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔پس جو حصہ قرآن کریم کا پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا تھا اس میں قرون اولی کے صحابہ ، آئمہ اور مجددین ہماری ہی تائید میں نظر آتے ہیں اور یہ تمام ان کی کتابوں میں اب تک موجود ہیں۔گو بد قسمتی سے مسلمان انہیں بھول چکے ہیں۔غرض اس وقت نہ صرف مسلمانوں کے اعمال میں نقص ہے بلکہ ان کے عقائد اور ان کے خیالات بھی قابل اصلاح ہیں۔ایسی حالت میں جب تک نوجوانوں میں بیداری پیدا نہ کی جائے اور انہیں یہ ہدایت نہ کی جائے کہ وہ اپنا قدم پھونک پھونک کر رکھیں اس وقت تک ہم میں بھی بعض غلطیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ہم ہمیشہ کہتے رہتے ہیں اور یہی صحیح امر ہے که قرآن کریم کی تبدیلی ناممکن ہے۔ہم ان غلطیوں کو دور کرنے کیلئے کھڑے ہوئے ہیں جو مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔اس ہم صرف ان غلطیوں کو دور کرنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے خدام الاحمدیہ کا قیام ضروری ہے کیلئے کھڑے ہوئے ہیں جو مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں اور چونکہ اس رنگ میں انسان بعض دفعہ ست بھی ہو جاتا ہے۔اس لئے اپنے کام کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں بہت زیادہ بیداری اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔میں نے بتایا تھا کہ قوم کے نوجوانوں کے اندر اس قسم کی بیداری اور ہوشیاری پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر جگہ مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی جائے اور اس میں ایسے نوجوان شامل کئے جائیں جو عملی رنگ میں اپنی ایسی اصلاح کرنے کیلئے تیار ہوں کہ ان کا وجود دوسروں کے لئے نمونہ بن جائے۔علاوہ ازیں بعض اور بھی نقائص ہیں جو مسلمانوں میں پائے جاتے۔زمانہ کی مخفی رو کا اثر ہماری جماعت پر نہ ہو۔خدام الاحمدیہ کے قیام کے غرض و غایت اور جو زمانہ کی مخفی رویا ورثہ کے اثرات کے ماتحت ہماری جماعت کے بعض افراد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ایسی مجالس کے قیام کی ایک غرض ان نقائص کو دور کرنا بھی ہوگی۔مثلا ہندوستانی ایک عرصہ سے غلامی کی زندگی بسر