مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 516

516 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ۱۹۴۸ء میں کو ئٹہ تشریف لے گئے توے اگست ۱۹۴۸ء کو مجلس خدام الاحمدیہ کوئٹہ نے حضور کے اعزاز میں ایک پارٹی دی جس میں تلاوت و نظم کے بعد حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا گیا اور درخواست کی گئی کہ حضور از راہ کرم خدام الاحمدیہ کو اپنی قیمتی ہدایات سے مستفیض فرمائیں چنانچہ حضور نے اس موقعہ پر ایک نہایت ایمان افروز تقریر فرمائی جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔(مرتب) "اچھا کام تعریف کے قابل ہوتا ہے اور برا کام مذمت کے قابل ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی استاد اپنے شاگردوں کا دل بڑھانے کے لئے ان کے تھوڑے اور نامکمل کام کو بھی قابل تعریف ظاہر کرتا ہے اور کبھی وہ ان کے اندر نیا عزم پیدا کرنے کے لئے ان کے اچھے کاموں کو بھی قابل اعتراض اور قابل تنقید قرار دے دیتا ہے جس کی وجہ سے شاگر د اپنے کاموں کی طرف زیادہ توجہ کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔عرفی یا انوری ان دونوں میں سے کسی ایک کے متعلق مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔وہ ذکر کرتا ہے کہ میں شعر کہا کرتا تھا اور اصلاح کے لئے استاد کے پاس لے جایا کرتا تھا مگر وہ بڑی سختی کے ساتھ ان پر تنقید کیا کرتا تھا اتنی سخت تنقید کہ وہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔وہ کہتا ہے کہ مجھے اپنے متعلق احساس پیدا ہو گیا تھا کہ میں بڑا اچھا ادیب بن گیا ہوں لیکن میں نے متواتر دیکھا کہ میرا استاد برا بر جرح کرتا چلا جاتا تھا۔میں نے یہ خیال کر کے کہ یہ جرح نامناسب ہے اور تعصب پر مبنی ہے ایک دفعہ شرارت کر کے پرانی کاپیوں سے کچھ کاغذ اکھیڑے اور ان کی جلد بنالی اور خط بدل کر کسی سے چند نظمیں ان پر نقل کرالیں اور اپنے استاد کے پاس لے گیا۔میں نے کہا مجھے اپنے والد صاحب کی لائبریری میں سے پرانے شاعروں کے کلام کے یہ اجزاء ملے ہیں۔انہوں نے وہ نظمیں پڑھنی شروع ہی کی تھیں کہ بے تحاشا تعریف کرنی شروع کردی کہ یہ بڑا اعلیٰ درجہ کا کلام ہے۔اس نے بہت ہی عمدہ کہا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جب میں نے یہ تعریفیں سنیں تو کہا استاد جی بس رہنے دیجئے۔میں نے دیکھ لیا ہے کہ آپ بلا وجہ مجھ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔یہ میرے ہی شعر تھے جو میں پرانے کاغذوں پر لکھ کر لے آیا ہوں اور میں نے یونہی آزمانے کے لئے یہ کہہ دیا تھا کہ یہ پرانی نظمیں ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ جب میں نے یہ بات کی تو میرے استاد کا چہرہ افسردہ ہو گیا اور اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ میں اپنے پیچھے ایک ایسا شاگرد چھوڑ جاؤں گا جس کا فارسی زبان میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا مگر آج جو تم نے یہ جرات کی ہے تو اس کی وجہ سے اب تمہاری ترقی ختم ہو گئی ہے۔میں : شمنی کی وجہ سے تم پر تنقید نہیں کیا کرتا تھا بلکہ اس لئے تنقید کرتا تھا کہ تائم زیادہ سے زیادہ کوشش کرو اور تمہارے مختفی جو ہر زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں۔اگر میں کہہ دیتا تم اچھے شاعر بن گئے ہو تو تم مزید محنت نہ کرتے۔یہ جرح ہی کا نتیجہ ہے کہ تم نے خوب زور لگایا اور محنت سے کام لیا اور اب صاحب کمال بن گئے ہو لیکن اب تمہاری ترقی ختم ہو گئی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ واقعہ یہی ہے کہ میں نے پھر اس سے زیادہ ترقی نہیں کی۔