مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 497
497 طاقت خرچ کرنا پاگل پن کی بات ہو گی۔ایک دفعہ ہم ڈلہوزی گئے۔اس وقت میری عمر کوئی میں بائیس سال کی ہو گی۔ان دنوں ایک پادری فرگوسن جو اپنے آپ کو عیسائیت کا بہت بڑا عالم سمجھتا تھا اور سیالکوٹ میں عیسائیت اس کے ذریعہ پھیلی تھی ، وہ بھی ڈلہوزی میں تھا۔اس کی عمر اس وقت ستر اسی سال کے درمیان تھی۔وہ شام کو بازار میں اشتہار تقسیم کیا کرتا تھا کہ کوئی شخص تثلیث اور کفارہ کے مسائل پر مجھ سے بحث کرلے۔اس زمانہ میں ڈلہوزی کی آبادی بہت کم تھی۔صرف چند کو ٹھیاں تھیں ( یہ ۱۹۱۱ ء کی بات ہے ) وہاں اس بات کا چرچا شروع ہوا کہ یہ عیسائی زیادہ تر اسلام پر حملے کرتا ہے مگر یہاں کے مولوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے اعتراضات کا جواب نہیں آتا۔ہم وہاں ایک ایسے مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے جو تھا تو بالا خانہ مگر اس کی چھت میں پیر دھنس جاتے تھے اور اس کی چھت سے پانی بھی ٹپکتا تھا۔ہم نے وہاں لمبے لمبے پچھٹے پچھوا لئے ہوئے تھے تاکہ پیر نہ رھنے۔ایک داروغہ عبد الغفور صاحب جو فیروزپور کے رہنے والے تھے وہاں ان کے اپنے مکانات تھے۔وہ گو احمد کی تو نہ تھے مگر انہیں احمدیت سے بغض بھی نہ تھا۔انہوں نے اصرار کیا کہ آپ ہمارے گھر چلے آئیں مگر میں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اس شرط پر جاتے ہیں کہ ہمارا کھانے کا انتظام اور باورچی وغیرہ اپنا ہو گا اور ہم آپ کو اور کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مان لیا اور ہم ان کے ہاں چلے گئے۔کھانے کا انتظام ہم نے اپنا کر لیا تھا مگر وہ داروغہ صاحب صبح شام کچھ نہ کچھ اپنے گھر سے پکوا کر ضرور لے آیا کرتے تھے۔کچھ مسلمان جو پادری کے اعتراضات سے تنگ آچکے تھے میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ اس پادری سے بات چیت کریں۔مجھے اس وقت کچھ زیادہ واقفیت تو نہ تھی مگر تو کلا علی اللہ میں نے ان کی بات مان لی اور پادری صاحب کے گھر چلے گئے۔بحث شروع ہوئی۔میں نے کہا پہلے تثلیث پر بحث ہو گی اور پھر کفارہ پر۔مگر پادری زیادہ تر کفارہ پر بحث کرنے پر زور دیتا تھا۔آخر وہ میرے اصرار پر مان گیا کہ تثلیث پر بحث ہو۔میں نے پادری سے سوال کیا کہ یہ سامنے میز پر جو پنسل پڑی ہے اگر آپ اس کو اٹھانا چاہیں اور اپنے بہرہ اور خانساماں کو آواز میں دیں کہ او بہرہ اور خانساماں ادھر آئیو اور جب وہ آجائیں اور ادھر آپ ہم کو بھی بلالیں اور جب ہم سب جمع ہو جائیں اور پوچھیں کہ کیا کام ہے تو آپ کہیں کہ یہ پنسل اٹھا دو تو ہم سب آپ کے متعلق کیا خیال کریں گے۔پادری صاحب کہنے لگے اگر میں ایسا کہوں تو یقینا پاگل سمجھا جاؤں گا۔میں نے کہا اب آپ مجھے بتائیے کہ کیا دنیا کو خدا باپ نے پیدا کیا ہے یا خدا بیٹے نے پیدا کیا ہے یا خدا روح القدس نے پیدا کیا ہے۔انہوں نے کہا سب نے مل کر پیدا کیا ہے۔میں نے کہا کیا اس کے پیدا کرنے کی خدا روح القدس میں طاقت تھی یا نہیں ؟ یا خدا باپ میں یہ طاقت تھی یا نہیں؟ پادری صاحب نے کہا ان دونوں میں بھی تھی کہ وہ اکیلے پیدا کر سکتے۔میں نے کہا پھر کیا وجہ ہے کہ وہی کام جس کو خدا باپ آسانی سے کر سکتا ہے۔خدا روح القدس آسانی سے کر سکتا ہے۔خدا بیٹا آسانی سے کر سکتا ہے ، اسے تینوں نے مل کر کیا۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے فنسل اٹھانے کے لئے کئی آدمی جمع ہو جائیں۔اس پر وہ پادری شرمندہ سا ہو گیا اور کہنے لگا یہ تثلیث کا مسئلہ کچھ۔