مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 496

496 فرمایا :۔" آج میں جماعت کے نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کو اپنے اندر محنت اور قربانی کی عادت پیدا کرنی چاہئے اور اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ کسی قوم کی حالت ترقی پذیر نہیں ہو سکتی جب تک اس قوم کے خواص و عوام میں محنت اور قربانی کی عادت نہ ہو۔دنیا میں قوموں پر کئی شکلوں میں مشکلات اور کئی صورتوں میں ابتلاء آتے رہتے ہیں مگر ان سب کا جواب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ استقلال اور بہادری سے ایسی مشکلات کا مقابلہ کیا جائے۔مگر یہ روح تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ان کے مطابق کام بھی کریں یعنی جتنی زیادہ ذمہ واریاں ہوں اتنا ہی زیادہ کام بھی کیا جائے۔کیونکہ جب تک اندازے کے مطابق کام نہ کیا جائے وہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوا کرتا۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے کہ کسی بھوکے کے منہ میں میں صرف ایک لقمہ روٹی کا دے دینے سے اس کی بھوک دور نہیں ہو سکتی اور کسی پیاسے کے منہ میں ایک قطرہ پانی ڈال دینے سے اس کی پیاس نہیں رک سکتی یعنی جب تک بھو کے کو اتنی غذا نہ مہیا کی جائے جس سے اس کا پیٹ بھر سکے یا جب تک ایک پیاسے کو اتنا پانی نہ دیا جائے جس کو وہ سیر ہو کر پی سکے ، اس وقت تک نہ وہ بھوکا اور نہ ہی وہ پیا سا بھوک اور پیاس کی تڑپ کو دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی صحت قائم یا بحال ہو سکتی ہے۔یہی حال کاموں کا بھی ہوتا ہے۔جتنا بڑا کام ہو اتنی ہی اس کے لئے محنت صرف کی جائے تو وہ ختم کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔اگر کام تو بڑا ہو اور انسان زور تھوڑا لگائے یا محنت کم کرے تو وہ اس کو کبھی سرانجام نہ دے سکے گا۔مثلاً اگر کسی دریا کا کنارہ ٹوٹ جائے تو اگر کوئی شخص وہاں مٹھی سے مٹی ڈالنا شروع کر دے تو خواہ وہ کتنی بھی مٹھیاں ڈالے ، مٹی ضائع ہو جائے گی اور دریا کا پانی بھی نہ رک سکے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص اس کنارے پر ایک ایک پتھر پھینکنا شروع کر دے تو وہ پھر پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ ہی بہتے چلے جائیں گے اور سوائے اس کے کہ اس شخص کا وقت ضائع ہو اور کوئی نتیجہ نہ نکل سکے گا۔البتہ اس کام کے لئے اگر یہ انتظام کر دیا جائے کہ اتنے پتھر اور اتنی مٹی وہاں پھینکی جائے جو پانی کو روک سکیں تو پہلے پانی کا زور ٹوٹنا شروع ہو جائے گا اور پھر آہستہ آہستہ پانی بالکل رک جائے گا۔مثلاً پہلے پانی کے بہاؤ کی طاقت سو تھی اور جب اس طاقت کے مقابلہ میں اتنی مٹی اور پتھر ڈال دیئے گئے جن کی طاقت دس تھی تو پانی کی طاقت نوے رہ جائے گی۔پھر اگر اتنے ہی پتھر مٹی اور ڈال دیئے جائیں تو پانی کی طاقت اسی ہو جائے گی اور مٹی اور پتھروں کی طاقت میں ہو جائے گی۔اسی طرح جتنی جتنی مقدار میں پتھر اور مٹی ڈالی جائے گی اتنی اتنی مقدار میں پانی کی طاقت کم ہوتی جائے گی۔آخر ہوتے ہوتے مٹی اور پتھروں کی طاقت پانی کے مقابلہ میں زیادہ ہو جائے گی اور پانی رک جائے گا۔پس کام کے مطابق طاقت کو خرچ کیا جائے تو کام ہو سکتا ہے ورنہ دریا کے شکستہ کنارے پر مٹھی سے مٹی پھینکنے والا شخص یقینا پاگل کہلائے گا کیونکہ جب تک کام کے اندازے کے مطابق زور نہ خرچ کیا جائے اس وقت تک صحیح نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا بلکہ اندازہ سے کم یا زیادہ