مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 464

464 سے دیکھتا ہے او اس کا لڑکا تو یہ کہتا ہے کہ شاید میں ہی عنان حکومت سنبھالوں گا۔میرے لئے کسی علم اور تجربہ کی ضرورت نہیں۔وہ ہر ایک سے الجھنا چاہتا ہے اور ہر ایک کو یہ بتا تا ہے کہ میرا باپ ای۔اے۔سہی ہے۔اسی طرح انگریزی گورنمنٹ نے جو خطابوں کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے اس نے بھی بہت سے لوگوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔بس خان بہادروں اور خان صاحبی کے شوق میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ ابھی ہمارے ملک کے لوگوں میں ذہانت پیدا نہیں ہوئی۔مجھے اس بات سے خوشی ہوئی کہ زندگی وقف کرنے والے اچھے ذہین لڑکے ہیں۔اگر ان کا خیال درست نکلا اور ایسا نہ ہوا کہ مجھے ان کے متعلق یہ سمجھنا پڑے کہ انہوں نے مبالغہ سے کام لیا ہے تو اس کے نتائج جتنے اعلیٰ ہوں گے ان کا قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا۔زیادہ سے زیادہ نوجوان خدمت دین کیلئے اپنے آپکو پیش کریں فرمایا: ”میں دوسرے نوجوانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے اور خدمت اسلام کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔دنیا میں اعداد و شمار کا مقابلہ ذہانت ہی کر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ كُمُ مِنْ فِئَةٍ قويلَةٍ غَلَبَتْ فَنَةٌ كَرَهُ بِإِذْنِ اللهِ کہ کئی گروہ ایسے ہوتے ہیں جن کی تعداد تھوڑی ہوتی ہے لیکن بوجہ ہمت اور ذہانت کے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کثیر التعداد گروہوں پر غالب آجاتے ہیں۔اگر ہمارے نوجوان اچھی طرح محنت کریں اور کوشش کر کے اعلیٰ قابلیتیں پیدا کریں تو ہم تھوڑے ہو کر بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔پس ہماری کامیابی ہمارے طالب علموں کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے نوجوان اگر اعلیٰ قابلیتیں پیدا کر لیں تو دنیا کے اعداد و شمار ہمارے راستے میں روک نہیں بن سکتے کیونکہ لوگ جب یہ دیکھیں گے کہ دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان بھی احمدی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا محقق بھی احمد ی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا مولوی بھی احمد کی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا انجنیئر بھی احمدی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر بھی احمدی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا بیر سٹر بھی احمدی ہے۔دنیا کا سب سے بڑا صناع بھی احمدی ہے تو وہ احمدیت کی طرف تو جہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر احمدی کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ چوٹی کا آدمی بنے۔فارسی کا ایک مقولہ ہے "کسب کمال کن که عزیز جہاں شوی" فارسی کا ایک مقولہ ہے "کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی"۔اگر ہمارے نوجوان ہر فن میں کمال پیدا کر لیں تو ترقی کرنا بہت آسان ہو جائے کیونکہ ایسی صورت میں ہمارا مبلغ جہاں بھی تبلیغ کر رہا ہو گا وہاں یہ بات اس کی مدد کر رہی ہوگی کہ یہ اس قوم کا مبلغ ہے جس میں ایسے ایسے اعلیٰ پایہ کے انسان پائے جاتے ہیں۔جب کوئی قوم قابلیت اور لیاقت میں بڑھ جاتی ہے تو اس کے ہر فرد کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اس کی بات تو جہ سے سنی جاتی ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو زندگیاں سدھارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی نگاہوں کو اونچا کرنا چاہئے اور یہ عزم کر لینا چاہئے کہ میں نے فلاں فن میں چوٹی کا آدمی بنتا ہے یا اسی کوشش میں فنا ہو جانا ہے "۔( فرمودہ ۲۹ مئی ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۲۴ ستمبر ۱۹۶۰ء)