مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 452
452 نے یہ سنا تو چیچنیں مار کر رونے لگ گئی اور کہنے لگی۔" ہے پت تجھ پہ یہ دکھ۔" یعنی اتنی چھوٹی سی جان اور یہ یہ مصیبتیں۔یہی حال بعض واقفین کا ہے کہ جماعتیں ان کو گلے لپٹاتی ہیں اور کہتی ہیں۔" ہے پت تجھ پہ یہ یہ دکھ۔" بہر حال ہمیں واقف چاہئیں مگر بزدل اور پاگل واقف نہیں بلکہ وہ ہر قسم کے شدائد کو خوشی کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں جہاں واقفین میں سے اس حصہ کی مذمت کرتا ہوں وہاں میں دوسرے حصہ کی تعریف کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے نوجوانوں میں ایسے واقفین زندگی بھی ہیں جنہیں ہر قسم کے خطرات میں ہم نے ڈالا مگر انہوں نے ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔وہ پوری مضبوطی کے ساتھ ثابت قدم رہے اور انہوں نے دین کی خدمت کے لئے کسی قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا۔چونکہ ہمیں اسلام کی تبلیغ وسیع کرنے کے لئے ابھی مبلغین کے ایک لمبے سلسلہ کی ضرورت ہے اس لئے میں جماعت کے نوجوانوں کو پھر وقف زندگی کی تحریک کرتا ہوں اور ماں باپ کو اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہوں کہ جب تک ہر باپ یہ اقرار نہیں کرتا کہ میں اپنی اولاد کو اسلام کے لئے قربان کرنے کو تیار ہوں۔جب تک ہر ماں یہ اقرار نہیں کرتی کہ وہ دین کے لئے اپنی اولاد کو قربان کرنا اپنے لئے سعادت کا موجب سمجھے گی ، اس وقت تک ہم دین کی ترقی کے لئے کوئی مضبوط اور پائیدار بنیاد قائم نہیں کر سکتے۔ہم میں سے ہر مرد اور ہر عورت کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ اگر دین کے لئے اس کی اولاد قائم ہو جائے گی تو اس کی موت انتہائی سکھ کی موت ہوگی اور اگر سلسلہ کے لئے اس کی اولاد ہر قسم کی قربانی سے کام نہیں لے گی تو اس کی موت کی گھڑیاں انتہائی دکھ اور تکلیف میں گذریں گی۔یہ ایمان ہے جو ہمارے اندر پیدا ہونا چاہئے۔جب تک ہم میں سے ہر مرد اور عورت میں فدائیت اور جاں نثاری کا یہ جذبہ پیدا نہ ہو اس وقت تک ہم ایک مضبوط اور ترقی کرنے والی قوم کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ایک اعلان میں نے یہ کیا تھا کہ جماعت کے نوجوان اپنے آپ کو اس رنگ میں سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کریں کہ مرکز کی طرف سے انہیں جہاں بھی تجارت کرنے کے لئے کہا جائے گا وہاں وہ جائیں گے اور اپنے ذاتی کاروبار کے ساتھ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ بھی کرتے رہیں گے۔تجارت ایک ایسی چیز ہے جس میں انسان بغیر کسی خاص سرمایہ کے بہت تھوڑی محنت کے ساتھ کامیاب ہو سکتا ہے۔جو لوگ اس طرف توجہ کریں گے وہ نہ صرف اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے لئے روزی کا سامان پیدا کریں گے بلکہ دین کی خدمت کے لئے چندہ بھی دے سکیں گے اور سلسلہ کی اشاعت کو بھی وسیع کرنے کا موجب بنیں گے۔ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے آپ کو تجارت کے لئے وقف کریں۔اگر انہیں کام سیکھنے کی ضرورت ہوئی تو ہم کام سکھائیں گے۔انہیں تجارت کے لئے موزوں مقام بتائیں گے۔انہیں کارخانوں سے مال، دلوا دیں گے اور اگر کوئی مشکل پیش آئے گی تو اس کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔افریقہ میں ایسا ہی ہوا کہ بعض لوگ وہاں تجارت کے لئے گئے تو ہم نے اپنی ضمانت پر انہیں کارخانوں سے مال دلوا دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان اس طرف توجہ کریں تو ہم قلیل ترین عرصہ میں