مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 446
446 یہ سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد سائنس کے ابتدائی اصولوں سے واقف ہو جائے اور ابتدائی اصول اس کثرت کے ساتھ جماعت کے سامنے دو ہرائے جائیں کہ ہمارے نائی۔دھوبی بھی یہ جانتے ہوں کہ پانی دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈ روجن سے بنا ہوا ہے یا روشنی آکسیجن لیتی ہے اور کار بن چھوڑتی ہے۔اگر ا سے آکسیجن نہ ملے تو بجھ جاتی ہے۔جب ان ابتدائی باتوں سے اکثر لوگ واقف ہو جائیں گے تو بعد میں آنے والے ان سے اوپر کے درجہ پر ترقی پا جائیں گے۔ایڈ سن جس نے ایک ہزار ایجادیں کی ہیں وہ ایک کار خانے میں چپڑاسی تھا۔کارخانے میں جو تجربات ہوتے وہ ان کو غور سے دیکھتا رہتا۔اس کی اس دلچسپی کو دیکھ کر ایک افسر نے اسے ایسی جگہ مقرر کر دیا۔جہاں وہ کام بھی سیکھ سکتا تھا۔پھر اسے ایسی درسگاہ میں داخل کرا دیا گیا۔جہاں وہ ایک حد تک علمی سائنس سے واقف ہو سکے۔آخر وہ ایجادیں کرنے لگ گیا اور آج وہ دنیا کا سب سے بڑا موجد سمجھا جاتا ہے۔بجلی فونوگراف ٹیلیفون اسی طرح کی اور بہت سی چیزیں اس نے ایجاد کیں اور بعض چیزوں میں ایسی شاندار ترمیم کی کہ وہ ایک نئی چیز بن گئیں۔پس جن لوگوں کے دماغ سائنس سے مانوس ہوں وہ دوسری کتابوں سے مدد لے کر ترقی کر جائیں گے۔بعض لوگ بظاہر سکتے اور بے عقل سمجھے جاتے ہیں لیکن جب ان کا دماغ کسی طرف چلتا ہے تو حیران کن نتائج پیدا کرتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جو بہت زیادہ عقلمند اور ہوشیار نظر آئے وہی سائنس میں ترقی کرے۔اس وقت قادیان میں سب سے زیادہ کامیاب کار خانہ میاں محمد احمد خان کا ہے۔کچھ دن ہوئے مجھے ایک سائنس کا پروفیسر ملا تھا۔اس نے مجھے حیرت کے ساتھ کہا کہ میک اور کس نے بہت ترقی کی ہے اور ان کی بعض چیزیں بہت قابل تعریف ہیں۔لیکن میاں محمد احمد خان جو اس کارخانہ کے موجد ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی ٹوپی رکھ کر بھول جاتے ہیں کہ کہاں رکھی ہے اور بعض دفعہ ٹوپی ان کے سر پر ہوتی ہے اور وہ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ایسا ہی ہوا کہ ان کی ٹوپی ان کے سر پر تھی اور وہ اپنے ماموں میاں بشیر احمد صاحب کی ٹوپی بغل میں دبا کر چل پڑے۔میاں صاحب نے دیکھا کہ میری ٹوپی لئے جارہے ہیں تو بلا کر کہا کہ اگر ٹوپی کی ضرورت ہے تو بے شک لے جاؤ ورنہ تمہاری ٹوپی تمہارے سر پر ہے۔غرض ایک طرف تو ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہو تاکہ میری ٹوپی میرے سر پر ہے یا نہیں ، دوسری طرف سائنس میں ان کا دماغ خوب چلتا ہے۔تو بظاہر بعض لوگ ایسے نظر آتے ہیں کہ جن کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ تو کوئی کام بھی نہیں کر سکیں گے لیکن جب ان کا دماغ کسی طرف چل پڑتا ہے تو وہ دنیا کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔پس میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاں ہمارے دوست دینی علوم سے واقف ہوں ، وہاں کچھ نہ کچھ انہیں سائنس کے ابتدائی اصول سے ضرور واقفیت ہونی چاہئے کیونکہ ان کا جاننا بھی اس زمانہ کے لحاظ سے بہت ضروری ہے۔آج میں نے اتنا وسیع پروگرام آپ لوگوں کو بتا دیا ہے کہ اگر آپ اس کے مطابق کام کریں تو دو تین سال