مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 437

437 اطلاع دیں۔مرکز جس حد تک ان کی مدد کر سکتا ہو کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدام الاحمدیہ پوری محنت اور کوشش سے کام کریں تو دو تین سال میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد پہلے کی نسبت دگنی تگنی ہو سکتی ہے۔اسی طرح خدام الاحمدیہ کے تبلیغی سیکرٹری مقرر کئے جائیں۔ان کا کام یہ ہو کہ وہ خدام کو تبلیغ کے سیکرٹری تبلیغ کی طرف متوجہ رکھیں اور انہیں تحریک کریں کہ وہ تبلیغ کے لئے کچھ نہ کچھ وقت دیا کریں مگر تبلیغ اس طرح نہ کی جائے جس طرح آج کل کی جاتی ہے بلکہ تبلیغ کرنے والے سے دریافت کیا جائے کہ وہ رشتہ داروں میں تبلیغ کرنا چاہتا ہے یا دوسرے لوگوں میں۔اگر وہ رشتہ داروں میں کرنا چاہے تو اسے اس کے مناسب حال معلومات بہم پہنچائی جائیں۔اگر غیروں میں کرنا چاہتا ہے تو معلوم کرنا چاہئے کہ ہندوؤں کو تبلیغ کرنے کا شوق رکھتا ہے یا سکھوں کو تبلیغ کرنے کا شوق رکھتا ہے یا یہودیوں کو تبلیغ کرنے کا شوق رکھتا ہے یا عیسائیوں میں تبلیغ کرنے کا شوق رکھتا ہے۔پھر جس مذہب سے اسے دلچسپی ہو اس کے متعلق اس کی تیاری کا انتظام کیا جائے۔وہ انتظام اس طرح ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ جو مختلف مذاہب کے متعلق وسیع معلومات رکھتے ہوں ، وہ ان مذاہب کے متعلق لیکچر دیں اور خدام کو دلائل وغیرہ نوٹ کرا دیئے جائیں۔مثلاً ختم نبوت ، وفات مسیح، قرآن مجید کا تحریف سے پاک ہونا، ناسخ و منسوخ آیات کے متعلق بحث الہام کی ضرورت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد بھی سلسلہ الہام جاری ہے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کس قسم کی نبوت جاری ہے۔اس قسم کے سوالات کے جوابات نوٹ کرا دیے جائیں۔پھر جو نوجوان تبلیغ کے لئے جائیں اور جو اعتراضات ان پر ہوں ، وہ ایک رجسٹر میں درج کئے جائے رج کئے جائیں اور جو خادم باہر سے آئے وہ تمام اعتراضات جو اس پر تبلیغ کے دوران میں ہوں لکھ کر یا لکھوا کر محلہ کے سیکرٹری کو دے دے جو اسے رجسٹر میں درج کر دے اور تبلیغ کے دورمان میں اگر کوئی گنوار سے گنوار شخص بھی کوئی اعتراض کرے تو اس کے اعتراض کو اہم تسلیم کرتے ہوئے اس کا جواب دیا جائے۔اسے یہ کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ یہ تو جاہلوں اور بیوقوفوں کا سوال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بیچ پر ہمیشہ اعتراض ہوتے ہیں اور سب کے سب خواہ بظا ہر معقول نظر آتے ہوں، بیوقوفی پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔قرآن کریم پر لوگوں نے جو اعتراض کئے اور جن کا اس نے جواب دیا ہے کیا وہ معقول تھے۔اگر وہ معقول تھے تو پھر ان کا جواب دینے کی ضرورت کیا تھی۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک سائیں بھنگ پیا کر تا تھا اور اسے بھنگ پینے کی وجہ سے اکثر قبض رہتی تھی۔حضرت خلیفہ اول۔۔۔اسے شربت بنفشہ اور عرق بادیان دیتے تھے۔چونکہ شربت میٹھا ہو تا تھا اس لئے وہ ہر روز آجاتا۔کسی نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں ہر روز قبض رہتی ہے۔کہنے لگا میٹھا شربت مل جاتا ہے اس لئے ہر روز آجاتا ہوں۔ایک دن اس سے حضرت خلیفہ اول نے پوچھا سائیں! کوئی نماز روزہ بھی کرتے ہو یا نہیں۔وہ کہنے لگا میں ایسی نماز نہیں پڑھتا جیسی آپ پڑھتے ہیں۔یہ بھی کوئی نماز ہے کہ اپنے محبوب کے دربار میں گئے اور آدھ گھنٹہ کے بعد پیٹھ پھیر کر بھاگ آئے۔ہم نے ایسی نماز کی نیت باندھی ہے کہ اگلے جہان ہی چل کر السلام علیکم کہیں گے۔کسی جاہل نے