مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 362
362 ہے۔کپڑا بھی اس سے عمدہ اور نرم تیار ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ جس قوم کو پیدا کرتا ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صرف یہ نہ دیکھے کہ وہ ایمان لے آئی ہے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ اس کی آئندہ نسل پہلی نسل سے اچھی ہو۔اگر پہلے لوگ آدھ گھنٹے تہجد پڑھتے ہیں تو اگلی نسل کے لوگ ایک گھنٹہ پڑھنے والے ہوں۔ایک اگر نماز کو اس طرح پڑھتی ہے کہ پانچ نمبر ملتے ہیں تو اگلی نسل ایسی ہونی چاہئے کہ جو سات آٹھ نمبر حاصل کرنے والی ہو۔پہلی نسل کی نسبت دوسری نسل عرفان میں زیادہ ہو۔اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو دنیا میں ہدایت پھیل سکتی ہے۔ورنہ اگر یہ نہ ہو تو قوم کا روحانی فیض بند ہو جائے گا۔بچپن میں ہمیں کئی دفعہ لدھیانہ آنا جانا پڑتا تھا۔وہاں ایک دریا جسے بڑھا دریا کہتے ہیں۔اس کا پانی بہت کم ہے اور وہ ریت میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔اسی طرح جو قوم اپنی آئندہ نسل کی روحانی ترقی کا خیال نہیں رکھتی اس کا روحانی فیض ہید ہو جاتا ہے۔اسی غرض کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ کا قیام کیا تھا۔بڑوں کا فرض ہے کہ نوجوانوں کی اصلاح کریں مگر میں نے خدام الاحمدیہ کی تحریک اس لئے جاری کی کہ اگر بڑے نوجوانوں کی اصلاح کے کام میں سستی کریں تو نوجوان خود اس کی کوشش کریں۔پہلے یہ صرف قادیان کے لئے ہی تھی۔پھر قادیان میں اُسے لازمی قرار دیا گیا اور باہر کی جماعتوں میں جو عہد یدار چالیس سال سے کم عمر کے ہوں ان کے لئے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ضروری قرار دے دیا گیا۔خدام الاحمدیہ کی انجمن میں شمولیت لازمی ہے اب تک یہ صرف تجربہ ہی تھا اب اسے مستقل کیا جارہا ہے اور میں یہ قاعدہ بنانے والا ہوں کہ ہندوستان میں جہاں جہاں بھی جماعت ہے وہاں کے نوجوانوں کے لئے جو پندرہ سال سے زیادہ اور چالیس سال سے کم عمر کے ہوں، مجلس خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا لازمی ہو گا اور ضروری ہوگا کہ وہ اس میں شامل ہوں اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ قریب زمانہ میں اس کا اعلان کرنے والی ہے اور اس خطبہ کے ذریعہ میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو نوجوان اس میں شامل نہ ہو گا یہ سمجھا جائے گا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے آمادہ نہیں اور وہ اپنی زبان سے اپنے آپ کو قومی غدار قرار دیتا ہے اور ہر وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو اس میں شامل کرنے میں حصہ نہ لیں گے ، سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنانے کی خواہش نہیں رکھتے اور ہر وہ جماعت جو اس تحریک کو کامیاب بنانے میں حصہ نہ لے گی اور اپنے نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرے گی، سمجھا جائے گا کہ وہ اپنا فرض ادا نہیں کر رہی۔قومی زندگی میں نوجوانوں کا کردار جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔قومی زندگی کے لئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ قوم کے نوجوان پہلے سے بہتر ہوں