مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 343
343 چاہتی ہوں کہ آپ سے ضرور شادی کروں۔انہوں نے پوچھا کہ آخر مجھ سے شادی کرنے سے تمہاری غرض کیا ہے۔وہ کہنے لگی میں نے آپ کے اخلاق ، آپ کی شجاعت اور آپ کی سخاوت کو دیکھا ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ میری بھی ایسی ہی اولاد ہو۔عبد الرحیم خان خاناں لطیفہ سنج تھے۔انہوں نے اسے لکھا بیگم یہ تو ضروری نہیں کہ اگر تم مجھ سے شادی کرو تو میری اولاد ضرور میرے جیسی ہی پیدا ہو ہاں چونکہ تم کو میری جیسی اولاد کی خواہش ہے اس لئے میں آج سے تمہارا بیٹا ہوں اور آپ میری ماں ہیں۔جو خدمت میں اپنی ماں کی کیا کرتا ہوں آئندہ وہی خدمت آپ کی کیا کروں گا۔تو دیکھو یہ اخلاق کا ہی نتیجہ تھا۔وہ چونکہ اچھے اخلاق والا انسان تھا اس لئے اس نے قلوب پر اثر ڈال لیا۔تو ظاہری بناؤ سنگھار کی بجائے اچھے اخلاق دلوں پر اثر کیا کرتے ہیں اور اگر جسمانی لحاظ سے دیکھو تو پھر بھی جو لوگ مضبوط جسم رکھنے والے اور اچھے کام کرنے والے ہوں انہی کی زیادہ محبت قلوب میں پیدا ہوتی ہے اور یہ محبت بڑی پاکیزہ اور ہر قسم کی گندگی سے منزہ ہوتی ہے۔مگر جو شخص اپنا وقت چھوٹی چھوٹی باتوں میں ضائع کر دیتا ہے۔وہ نیکی کے بڑے بڑے کاموں سے محروم رہ جاتا ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے کاموں کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کریں اور اپنے اعمال اسلام کی تعلیم کے مطابق بنائیں۔چونکہ اب تین بجے کی گاڑی پر خدام نے واپس جانتا ہے اس لئے میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ اگلے سال خدام الاحمدیہ کو وہ اس سے بھی اچھا اور بہتر کام کرنے کی توفیق عطا کرے۔اللهم آمین۔تقریر سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ ۱۸ اکتوبر ۱۹۴۲ء۔مطبوعہ الفضل ۸۴۷ نومبر ۱۹۴۲ء) "