مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 23

23 طرف خاص توجہ اس لئے ہوئی ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ایک عہدہ دار کی مجھے چٹھی ملی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس مجلس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور بعض لوگ جو پہلے اس میں شامل تھے وہ اب پیچھے ہٹ گئے ہیں۔حالانکہ اس بات پر بجائے رنجیدہ ہونے کے انہیں خوش ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ میری تعلیم یہی ہے کہ کام کرنے والے چاہئیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ محض تعداد بڑھانے کے شوق میں نا اہلوں کو بھی شامل کر لیا جائے ہم سے زیادہ تعداد شیعوں کی ہے اور ان سے بھی زیادہ حنفیوں کی ہے۔پھر غیر مسلموں کو جمع کیا جائے تو وہ مسلمان کہلانے والوں سے زیادہ ہیں۔پس اگر تعداد کی زیادتی پر ہی مدار رکھا جائے تو پھر تو انسان کو باطل کی طرف جھکنا پڑتا ہے۔حالانکہ نیک کام ہمیشہ نیک بنیاد سے ہوتے ہیں۔میں کہتا ہوں۔یہ سوال نہیں کہ تمہارے دس ممبر ہیں۔یا ہیں۔یا پچاس یا سو۔اگر مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک سیکرٹری یا پریذیڈنٹ ہی کسی کرتی۔مرتب) ہاتھ میں لے لے اور گلیوں کی صفائی کرتا پھرے۔یا لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔یا کوئی غریب بیوہ جس کے گھر سود الا کر دینے والا کوئی نہیں۔اسے سودالا کر دے دیا کرے۔تو بے شک پہلے لوگ اسے پاگل کہیں گے مگر چند دنوں کے بعد اس سے باتیں کرنی شروع کر دیں گے۔پھر انہی میں سے بعض لوگ ایسے نکلیں گے جو کہیں گے کہ میں اجازت دیں کہ ہم بھی آپ کے کام میں شریک ہو جائیں۔اس طرح وہ ایک سے دو ہوں گے ، دو سے چار ہوں گے اور بڑھتے بڑھتے ہزاروں نہیں لاکھوں تک پہنچ سکتے ہیں۔۔تو نیک کام کرتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کتنے آدمی اس میں شریک ہیں۔اگر وہ کام جسے تم کرنا چاہتے ہو واقعہ میں نیک اور پسندیدہ ہے تو تھوڑے ہی دنوں میں تم ایک سے دس ہو جاؤ گے۔پھر دس سے سو بنو گے اور سو سے ہزار ہو جاؤ گے۔کیونکہ نیک کام اثر کئے بغیر نہیں رہتا۔آج کل یورپ میں ایک بہت بڑی انجمن ہے جس کی نہ صرف روٹری کلب کی تاریخ ( تاریخ ترقی) یورپ میں بلکہ سارے ایشیاء میں شاخیں ہیں۔روٹری کلب اس کا نام ہے اور لاکھوں اس کے ممبر ہیں۔یہ کلب امریکہ سے شروع ہوئی تھی۔پہلے اس میں صرف تین آدمی شامل تھے۔لوگ ان سے مخول کرتے ، انہیں پاگل اور احمق قرار دیتے۔مگر وہ خاموشی سے اپنے کام میں مشغول رہے یہاں تک کہ سال دو سال کے بعد سات آٹھ ممبر ہو گئے۔اور بھر تین چار سال کے بعد تو سینکڑوں تک نوبت پہنچ گئی۔اب اسے قائم ہوئے غالبا میں پچیس سال گذر چکے ہیں اور اس کے لاکھوں ممبر یورپ اور ایشیا میں موجود ہیں۔تو یہ خیال پیدا ہو جانا کہ ہماری مجلس میں کم آدمی شامل ہیں، زیادہ شامل ہونے چاہئیں یہ بھی بتاتا ہے کہ مخفی طور پر دل میں شہرت کی خواہش ہے۔ورنہ مقصد ہو تو تعداد کا خیال بھی دل میں نہ آئے۔اور میں تو سمجھتا ہوں۔بجائے اس کے کہ وہ تعداد بڑھانے کے شوق میں کام نہ کرنے والوں کو اپنے اندر شامل کریں جنہیں بعد میں نکالنا پڑے۔یہ زیادہ بہتر ہے کہ صرف کام کرنے والوں کو اپنے اندر شامل کیا جائے اور جو کام کرنے کا شوق نہیں رکھتے انہیں شامل نہ کیا جائے۔کیونکہ اندر سے گند کا نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔لیکن باہر سے گند نہ آنے دینا بہت