مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 309
309۔میں لفظی کلام کا اعزاز کیا جاتا ہے۔جس طرح ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم قرآن کریم کی وحی کا ادب اور احترام ہیں اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ ہم شعائر اللہ کا ادب اور احترام کریں۔شعائر اللہ کیا ہیں؟ وہ در حقیقت ایک تمثیلی زبان ہیں۔صفا اور مردہ ایک تمثیلی زبان ہیں۔منی ایک تمثیلی زبان ہے۔مزدلفہ ایک تمثیلی زبان ہے۔فرض یہ سب تمثیلی زبان ہیں۔انبیاء کا وجود بھی اپنی ذات میں ایک تمثیلی زبان ہو تا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اتحاد کا ایک نقطہ ہوتے ہیں۔تو جہاں الفاظ کے احترام کا ہمیں حکم ہے وہاں خدا تعالیٰ کی تمثیلی زبان کے احترام کا بھی ہمیں حکم ہے۔جس طرح ہمیں یہ حکم ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کوئی جھوٹا کلام منسوب مت کرو۔یہ مت کہو کہ خدا نے ہم کو یہ الہام کیا ہے حالا نکہ خدا نے تم کو کوئی الہام نہ کیا ہو۔اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹے طور پر کوئی تمثیلی زبان بھی منسوب مت کرو۔یہ نہ کہو کہ خواب میں ہم نے گنے دیکھے ہیں یا چنے دیکھے ہیں حالانکہ تم نے نہ گنے دیکھے ہوں نہ چنے دیکھے ہوں۔تو دونوں چیزوں کا ادب اور احترام کیا گیا ہے اس کا بھی اور اس کا بھی۔اس تمثیلی زبان کو بعض لوگوں نے اتنی عظمت دے دی ہے کہ وہ اس کی تعظیم خدا تعالیٰ کے برابر کرنے لگ گئے ہیں۔چنانچہ جیسے مذہب میں تمثیلی زبانیں ہوتی ہیں اسی طرح سیاسیات میں بھی تمثیلی زبانیں ہوتی ہیں اور سیاسی تمثیلی زبان میں ہر قوم کا ایک جھنڈا ہوتا ہے جس کا ادب اور احترام کیا جاتا ہے۔دنیا میں آج تک مختلف اقوام اپنے اپنے جھنڈے رکھتی چلی آئی ہیں اور وہ ان جھنڈوں کو خاص عزت اور عظمت دیتی ہیں یہاں تک کہ جو قربانی اپنی قوم کی معزز ترین اور محبوب ترین ہستی کے لئے کی جاتی ہے، وہ قربانی وہ قومیں ان جھنڈوں کے لئے کرتی ہیں اور قوموں کے لئے یہ بات بڑی ذلت کا موجب سمجھی جاتی ہے اگر ان کا جھنڈا کوئی دشمن چھین کر لے جائے۔وہ اس جھنڈے کو بچانے کے لئے اس سے زیادہ کوشش کرتی ہیں جتنی کوشش وہ اپنے آدمیوں کی جان بچانے کے لئے کرتی ہیں۔حالانکہ آدمی تلوار چلاتے ہیں۔توپ چلاتے ہیں۔دفاع کرتے ہیں۔دشمن سے لڑتے ہیں مگر باوجود اس کے کہ جھنڈا بے جان ہو تا ہے چونکہ تمثیلی زبان میں اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ ہماری قوم کی عزت ہے اس لئے لوگ جھنڈے کے لئے آدمیوں کو جو کام کرنے والے ہوتے ہیں ، قربان کر دیتے ہیں اور اس کپڑے اور لکڑی کو بچانے کے لئے بیسیوں نہیں سینکڑوں جانیں قربان کر دیتے ہیں۔