مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 276

276 برکت محمد ملی وی کی وجہ سے ہے۔پس بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے سکھایا اور بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے سیکھا۔اس میں محمد سے مراد در اصل قرآن کریم ہی ہے۔کیونکہ آپ ہی قرآن کریم کے الفاظ لائے ہیں۔پس جماعت کا تقویٰ پر قائم ہونا بے حد ضروری ہے۔اس زمانہ میں مومن اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم پر چل کر ہی اور اگر یہ غذا ہضم نہ ہو سکے تو پھر کیا فائدہ اور اگر اسے ہضم کرنا چاہتے ہو تو متقی ہو۔ابتدائی تقویٰ جس سے قرآن کریم کی غذا ہضم ہو سکتی ہے۔وہ کیا ہے۔وہ ایمان کی درستی ہے۔تقویٰ کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان کی درستی تقویٰ کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان کی درستی ہے ہی ہے۔قرآن کریم نے مومن کی علامت یہ بتائی ہے کہ یومنون بالغیب۔ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ میں متقی کیسے بنوں۔پس اس کی پہلی علامت ایمان بالغیب ہے یعنی اللہ تعالی ملائکہ قیامت اور رسولوں پر ایمان لانا۔پھر اس ایمان کے نیک نتائج پر ایمان انا بھی ایمان بالغیب ہے۔اللہ تعالٰی 'ملائکہ قیامت اور رسالت نظر نہیں آتی۔اس لئے اس کے دلائل قرآن کریم نے مہیا کئے ہیں اور وہ دلا کل ایسے ہیں کہ انسان کے لئے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔مگر کئی لوگ ہیں جو غور نہیں کرتے۔آجکل ایمان بالغیب پر لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں ، بعض لوگ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم تعلیم یافتہ ہو کر خدا کو مانتے ہو۔پھر قیامت اور مرنے کے بعد اعمال کی جزا سزا پر بھی لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔ملائکہ بھی اللہ تعالی کا پیغام اور دین لانے والے ہیں۔اور یہ سب ابتدائی صداقتیں ہیں۔مگر لوگ ان سب باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔یہ سارا ایک ہی سلسلہ ہے اور جس نے اس کی کڑی کو بھی چھوڑ دیا۔وہ ایمان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے اور یہی تو کل کا مقام ہے۔ایک شخص اگر دس سیر آٹا کسی غریب کو دیتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر اسے ملے گا تو وہ گویا غیب پر ایمان لاتا ہے۔وہ کسی حاضر نتیجہ کے لئے یہ کام نہیں کرتا بلکہ غیب پر ایمان لانے کی وجہ سے ہی ایسا کر سکتا ہے۔بلکہ جو شخص خدا تعالی پر ایمان نہیں رکھتا وہ بھی اگر ایسی کوئی نیکی کرتا ہے تو غیب پر ایمان کی وجہ سے ہی کر سکتا ہے۔فرض کرو۔کوئی شخص قومی نقطہ نگاہ سے کسی غریب کی مدد کرتا ہے تو بھی یہی سمجھ کر کرتا ہے کہ اگر کسی وقت مجھ پر یا میرے خاندان پر زوال آیا تو اسی طرح دوسرے لوگ میری یا میرے خاندان کی مدد کریں گے۔تو تمام ترقیات غیب پر مبنی ہیں۔کیونکہ بڑے کاموں کے نتائج فور انہیں نکلتے اور ایسے کام جن کے نتائج نظر نہ آئیں حو صلہ والے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب ہی انسان کے اندر پیدا کر سکتا ہے۔گویا قرآن کریم نے ابتداء میں ہی ایک بڑی بات اپنے ماننے والوں میں پیدا کر دی۔چنانچہ وہ صحابہ جو بدر اور احد کی لڑائیوں میں لڑے کیا وہ کسی ایسے نتیجے کے لئے لڑے تھے جو سامنے نظر آ رہا تھا۔نہیں۔بلکہ ان کے دلوں میں ایمان بالغیب تھا۔بدر کی لڑائی کے موقع پر مکہ کے بعض امراء نے صلح کی کوشش کی۔مگر بعض ایسے لوگوں نے جنہیں نقصان پہنچا ہوا تھا۔شور مچادیا