مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 275
275 لوگوں کے شامل ہونے کا اس صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے کہ شامل ہونے والوں کے اندر ایمان اور اخلاق ہو۔صرف تعداد میں اضافہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔اگر کسی کے گھر میں دس سیر دودھ ہو تو اس میں دس سیر پانی ملا کر وہ خوش نہیں ہو سکتا کہ اب اس کا دودھ میں سیر ہو گیا ہے۔خوشی کی بات یہی ہے کہ دودھ ہی بڑھایا جائے اور دودھ بڑھانے میں ہی فائدہ ہو سکتا ہے۔جو قو میں تبلیغ میں زیادہ کوشش کرتی ہیں ان کی تربیت کا پہلو کمزور ہو جایا کرتا ہے اور ان مجالس کا قیام میں نے تربیت کی غرض سے کیا ہے۔چالیس سال سے کم عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ اور چالیس سال سے اوپر عمر والوں کے لئے انصار اللہ اور عورتوں کے لئے لجنہ اماء اللہ ہے۔ان مجالس پر در اصل تربیتی ذمہ داری ہے۔یاد رکھو کہ اسلام کی بنیاد اسلام کی بنیاد تقویٰ پر ہے تقویٰ پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شعر لکھ رہے تھے۔ایک مصرعہ آپ نے لکھا کہ ہر اتقاء اک نیکی کی جڑ ای وقت آپ کو دوسرا مصرعہ الہام ہو ا جو یہ ہے کہ اگر جڑ رہی ہے کچھ رہا ہے" اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر جماعت تقویٰ پر قائم ہو جائے تو پھر وہ خود ہر چیز کی حفاظت کرے گا۔نہ وہ دشمن سے ذلیل ہو گی اور نہ اسے کوئی آسانی یا زمینی بلائیں تباہ کر سکیں گی۔اگر کوئی قوم تقوی پر قائم ہو جائے تو کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔قرآن کریم کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔السمه ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتقين (البقره: ۲ - (٣) لا ريب فيه تو قرآن کریم کی ذاتی خوبی بتائی اور دوسروں سے تعلق رکھنے والی خوبی یہ بتائی کہ ھدی للمتقین۔یعنی یہ کلام متقی پر اثر کرتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص تو روٹی کھاتا اور اس سے طاقت حاصل کر کے کھڑا ہو تا ہے اور دوسرے کو دو آدمی پکڑ کر کھڑا کرتے ہیں۔غیر متقی کو جو ہدایت ہوتی ہے وہ تو ایسی ہوتی ہے جیسے دو آدمی کسی کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیں۔مگر جو متقی ہے وہ اس سے غذا لیتا اور طاقت حاصل کرتا ہے۔ہم اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم کی مدد سے ہی۔اور قرآن کریم کہتا ہے کہ اس کی غذا متقی کے لئے ہی طاقت اور قوت کا موجب ہو سکتی ہے۔اگر کسی شخص کے معدہ میں کوئی خرابی ہو تو اسے گھی دودھ ، مرغ ، بادام ، پھل اور کتنی اعلیٰ غذائیں کیوں نہ کھلائی جائیں ، اسے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا بلکہ الٹا اسے ہیضہ ہو جائے گا۔غذا اسی صورت میں فائدہ دے سکتی ہے جب وہ ہضم ہو۔اگر ہضم نہ ہو تو الٹا نقصان کرتی ہے اور قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ غذا ایسی ہے جو مومن کے معدہ میں ہی ٹھہر سکتی ہے۔پس اگر یہ سچ ہے کہ ہم نے قرآن کریم سے فائدہ اٹھانا ہے اور اس سے فائدہ اٹھائے بغیر ہم کوئی ترقی نہیں کر سکتے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ كل بركة من محمد صلى الله عليه وسلم فَتار كل من علم و تعلم یعنی تمام