مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 274

274 اب میں احباب کو مجلس انصار اللہ اور مجلس خدام الاحمدیہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جماعت کے احباب یا چالیس سال سے کم عمر کے ہیں یا چالیس سال سے زیادہ عمر کے اور میں نے چالیس سال سے کم عمر والوں کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ اور زیادہ عمر والوں کے لئے مجلس انصار اللہ قائم کی ہے یا پھر عورتیں ہیں۔ان کے لئے لجنہ اماء اللہ قائم کی ہے۔میری غرض ان تحریکات سے یہ ہے کہ جو قوم بھی اصلاح وارشاد کے کام میں پڑتی ہے، اس کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ اور لوگ ان کے ساتھ شامل ہوں اور یہ خواہش کہ اور لوگ جماعت میں شامل ہو جائیں ، جہاں جماعت کو عزت بخشتی ہے وہاں بعض اوقات جماعت میں ایسا رخنہ پیدا کرنے کا موجب بھی ہو جایا کرتی ہے جو تباہی کا باعث ہوتا ہے۔جماعت اگر کرو ڑ دو کروڑ بھی ہو جائے اور اس میں دس لاکھ منافق ہوں تو بھی اس میں اتنی طاقت نہیں ہو سکتی جتنی کہ اگر دس ہزار مخلص ہوں تو ہو سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چند صحابہ نے جو کام کئے ، وہ آج چالیس کروڑ مسلمان بھی نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ آنحضرت ملی و یا لیلی نے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو ان کی تعداد مسلمانوں کی مردم شماری سات سو تھی۔صحابہ نے خیال کیا کہ شاید آپ نے اس واسطے مردم شماری کرائی ہے کہ آپ کو خیال ہے کہ دشمن ہمیں تباہ نہ کر دے اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں۔کیا اب بھی یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ہمیں تباہ کر سکے گا۔یہ کیسا شاندار ایمان تھا کہ وہ سات سو ہوتے ہوئے یہ خیال تک بھی نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن انہیں تباہ کر سکے گا۔مگر آج صرف ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان ہیں۔اگر حالت یہ ہے کہ جس سے بھی بات کرو اندر سے کھو کھلا معلوم ہو تا ہے اور سب ڈر رہے ہیں کہ معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔کجا تو سات سو میں اتنی جرات تھی اور کجا آج سات کروڑ بلکہ دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان ہیں مگر سب ڈر رہے ہیں اور یہ ایمان کی کمی کی وجہ سے ہے۔جس کے اند ر ایمان ہوتا ہے وہ کسی سے ڈر نہیں سکتا۔ایمان کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ آپ گورداسپور میں تھے میں وہاں تو تھا مگر اس مجلس میں نہ تھا جس میں یہ واقعہ ہوا۔مجھے ایک دوست نے جو اس مجلس میں تھے ، سنایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور بعض دوسرے احمدی بہت گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ ہے لا ہو ر گیا تھا۔آریوں نے اس پر بہت زور دیا کہ مرزا صاحب ہمارے مذہب کے سخت مخالف ہیں ان کو ضرور سزا دے دو۔خواہ ایک ہی دن کی کیوں نہ ہو۔یہ تمہاری قومی خدمت ہو گی اور وہ ان سے وعدہ کر کے آیا ہے کہ میں ضرور سزا دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔یہ سنکر آپ کہنی کے بل ایک پہلو پر ہو گئے اور فرمایا خواجہ صاحب آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔کیا کوئی خدا تعالی کے شیر پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالٰی نے اس مجسٹریٹ کو یہ سزادی کہ پہلے تو اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا اور پھر اس کا تنزل ہو گیا۔یعنی وہ ای۔اے۔سی سے منصف بنا دیا گیا اور فیصلہ دوسرے مجسٹریٹ نے آکر کیا۔تو ایمان کی طاقت بڑی زبردست ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس جماعت میں نئے