مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 248

248 سکتی ہے جب تم ان کو اپنا دوست بنائو او روہ دوست اسی صورت میں بن سکتے ہیں جب تم ان کی غلط فہمیوں کو دور کر دو اور انہیں اسلام اور احمدیت کی برکات سے روشناس کرو۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرو اور اس خیال میں مت رہو ( خصوصا میں زمینداروں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں) کہ فلاں مشکل پیدا ہو گئی ہے کسی آدمی کو قادیان بھیجا جائے جو کسی ناظر سے ملے۔ناظر خدا نہیں۔میں خدا نہیں۔جب خدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ جو لوگ اس کے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہوں گے انہیں ابتلاؤں اور امتحانوں کی بھٹی میں سے گذرنا پڑے گا تو کوئی انسان تمہاری کیا مدد کر سکتا ہے۔اگر تم آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ آرام سے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے احمدیت میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ احمدیت اس لئے نہیں آئی کہ اپنے عقائد کو ترک کر کے اور مداہنت سے کام لے کر دنیا سے صلح کرلے۔احمدیت اس لئے نہیں آئی کہ گاؤں کے چند نمبردار اس کا اقرار کرلیں اور وہ تمہیں دکھ نہ دیں۔احمدیت اس لئے نہیں آئی کہ چند بڑے بڑے چوہدری اس کی صداقت کا اقرار کر لیں۔بلکہ احمدیت اس لئے آئی ہے کہ سارے گاؤں، سارے شہر، سارے صوبے‘ سارے ملک اور سارے براعظم محمد رسول الله علی ایم کیو ایم کے قدموں میں ڈال دیئے جائیں۔پس یہ چیزیں حقیقت ہی کیا رکھتی ہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے۔جس دن یہ آگ تم میں پیدا ہو گئی ، تم اپنے آپ کو مضبوطی میں ایک پہاڑ محسوس کرو گے۔لیکن جب تک یہ آگ تم میں پیدا نہیں ہوگی تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش رہو گے۔جیسے بیمار مر رہا ہو تا ہے تو وہ افیون کی گولی کھالیتا ہے۔افیون کی گولی سے اس کا درد بیشک کم ہو جائے گا مگر اسے آرام نہیں آئے گا۔اس کے مقابلہ میں عقل مند انسان افیون نہیں کھائے گا بلکہ وہ کہے گا کہ میں درد برداشت کرلوں گا مگر صحیح رنگ میں اپنا علاج کراؤں گا۔اس صورت میں وہ بیچ بھی جائے گا۔پس ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی پرواہ مت کرو۔تم کو خدا نے عظیم الشان کام کے لئے پیدا کیا ہے۔مگر تمہاری مثال بعض دفعہ ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسے مشہور ہے کہ کشمیر کے مہاراجہ نے ڈوگروں کی فوج کے علاوہ ایک دفعہ کشمیریوں کی بھی فوج بنائی مگر اس سے مراد وہ کشمیری نہیں جو پنجاب میں رہتے ہیں اور جو ہر لڑائی میں ڈنڈا لے کر آگے آجاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں کشمیری آکر بہادر ہو جاتا ہے اور کشمیر میں پنجابی جا کر بزدل ہو جاتا ہے۔بہر حال مہاراجہ نے کشمیریوں کی بھی ایک فوج تیار کی۔ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی اور گورنمنٹ برطانیہ کو مختلف راجوں مہاراجوں نے اپنی اپنی ریاستوں کی طرف سے فوجی امداد دی۔کشمیر کے مہاراجوں نے بھی اس فوج کو سرحد پر جانے کا حکم دیا اور کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تم اچھی طرح لڑو گے۔سالہا سال تو ہم سے تنخواہ لیتے رہے ہو۔اب حق نمک ادا کرنے کا وقت آیا ہے اس لئے تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم اس نازک موقعہ پر اپنے فرائض کو عمدگی سے سر انجام دو گے۔کشمیریوں نے جواب دیا کہ سرکار ہم نمک حرام نہیں۔ہم خدمت کے لئے ہر وقت حاضر ہیں مگر حضور کے یہ خادم سپاہی ایک بات عرض کرنا چاہتے ہیں۔لڑائی کا موقعہ تھا اور مہاراجہ ان کو خوش کرنے کے لئے تیار تھا۔اس نے سمجھا اگر یہ راشن بڑھانے کا مطالبہ کریں گے تو راشن بڑھا دوں گا۔تنخواہ میں زیادہ کا مطالبہ کریں گے تو تنخواہ زیادہ