مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 16

16 اور کوئی کچھ۔اسی طرح اگر ہم ساری جماعت کو عقلمند بنا دیں تو سب کی ایک ہی رائے ہو اور متحدہ عزم ، متحدہ ارادے اور متحدہ کوششیں اپنے اندر جو اثر رکھتی ہیں وہ بہت وسیع ہوتے ہیں۔لیکن اگر امیر کی عقل تو تیز ہے لیکن مامور کی نہیں۔مامور قدم قدم پر ٹھر جاتا ہے اور کہتا ہے ، مجھے سمجھا لیجئے۔ایسا نہ ہو مجھے کوئی غلطی لگ جائے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس امیر کی کوششیں بار آور نہیں ہو تیں اور قوم کامیابی کا پھل کھانے سے محروم رہتی ہے۔تو بهترین ذریعہ قومی ترقی کا یہ ہوتا ہے کہ ساروں کی قوم کے دماغوں کی تربیت صحابہ کرام کی مانند عقل تیز کر دی جائے۔ادھر انہیں حکم ملے اور ادھر طبائع اس پر عمل کرنے کے لئے پہلے ہی تیار ہوں اور وہ کہیں کہ ہم تو پہلے ہی اس کے منتظر تھے۔حدیثوں میں ایسے بہت سے واقعات آتے ہیں کہ جب قرآنی احکام نازل ہوتے تو صحابہ کہتے ہم تو پہلے ہی ان احکام کے منتظر تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ فورا عمل کی طرف متوجہ ہو جاتے اور بحث اور غلط بحث سے بچ جاتے۔پس ایسے ذرائع کو اختیار کرنا چاہئے جن سے قوم کے دماغ کی تربیت ہو اور خصوصاً نوجوانوں کے دماغ کی تربیت ہو۔کیونکہ زیادہ تر کاموں کی ذمہ داری آئندہ نوجوانوں پر ہی پڑنے والی ہوتی ہے۔اگر نوجوانوں میں بری باتیں پیدا ہو جائیں۔مثلا سکتے پن کی عادت پیدا ہو جائے سکتے پن کی تباہ کن عادت ہاستی کی عادت پیدا ہو جائے یا جھوٹ کی عادت پیدا ہو جائے تو یقینا آج نہیں تو کل وہ قوم تباہ ہو جائے گی۔بالخصوص جھوٹ تو ایسا خطرناک مرض ہے کہ یہ انسان کے ایمان کو جڑھ سے اکھیڑ دیتا ہے۔جھوٹ کی لعنت بعض دفعہ پندرہ پندرہ سال تک ہم ایک شخص کے متعلق یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ بڑا بزرگ اور راستباز انسان ہے۔مگر پھر پتہ لگتا ہے کہ وہ بڑا کذاب ہے۔دیکھتا کچھ ہے اور بیان کچھ کرتا ہے۔مگر یہ باتیں بچپن میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔پس نوجوانوں میں اگر اس قسم کی باتیں پیدا کر دی جائیں اور ان کے اخلاق کو صحیح رنگ میں ڈھالا جائے تو یقیناً قوم کی ترقی میں بہت مددمل سکتی ہے۔مثلاً میں نے تحریک جدید جاری کی۔اس میں اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کامیابی عورتوں اور بچوں کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اگر عور تیں اور بچے ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں تو یقیناً جماعت کا ایک حصہ اس پر عمل کرنے سے رہ جائے گا۔لیکن اگر عورتیں اور بچے اس میں شامل ہوں تو ہمارے کام میں بہت سہولت پیدا ہو سکتی ہے مثلاً سادہ کپڑے ہیں یا زیورات کی کمی ہے یا ایک خاص عرصہ تک زیور بالکل نہ بنوانا ہے اب جب تک عورتیں اس میں شریک نہ ہوں ان باتوں پر کس طرح عمل ہو سکتا ہے یا ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے اس میں اگر بچے اور نوجوان شریک نہ ہوں تو یہ سکیم کس طرح چل سکتی ہے۔یا مثلاً نکما نہ رہنا ہے۔اب سکتے پن کی عادت بچوں میں ہی ہو سکتی ہے بڑے تو اپنی اپنی جگہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی آسودہ حال ہوتے ہیں لیکن ان کی نئی نسل یہ کہنا شروع کر دیتی ہے کہ ہمارے ابانواب۔ہمارے ابا فلانے ہم فلاں کام کیوں کریں ، اس میں ہماری ہتک ہے۔اور پھر تمام خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں