مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 218

218 دوستوں کو معلوم ہے کہ میں نے جماعت کو تین حصوں میں منتظم کرنے کی جماعت کی تین ذیلی تنظیمیں ہدایت کی تھی۔ایک حصہ اطفال احمد یہ کا یعنی پندرہ سال تک کی عمر کے لڑکوں کا۔ایک حصہ خدام الاحمدیہ کا یعنی سولہ سال سے چالیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا اور ایک حصہ انصار اللہ کا جو چالیس سال سے اوپر کے ہوں، خواہ کسی عمر کے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ نوجوان جو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا ہے۔لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوا، اس نے ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہے مگر وہ انصار اللہ کی مجلس میں شامل نہیں ہوا تو اس نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی بچہ اطفال احمد یہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا تھا اور اس کے ماں باپ نے اسے اطفال احمدیہ میں شامل نہیں کیا تو اس کے ماں باپ نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔مگر مجھے امید رکھنی چاہئے کہ ایسے لوگ یا تو بالکل نہیں ہوں گے یا ایسے قلیل ہوں گے کہ ان قلیل کو کسی صورت میں بھی جماعت کے لئے کسی دھبہ یا بدنامی کا موجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ قلیل استثناء کسی جماعت کے لئے بدنامی کا موجب نہیں ہوا کرتے۔آج ہم صحابہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور بسا اوقات کہتے ہیں کہ وہ سب کے سب ایسے تھے۔حالانکہ ان صحابہ کہلانے والوں میں سے بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کا نام قرآن کریم میں منافق رکھا گیا ہے۔پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ سارے صحابی ایسے تھے اور کیوں ان کا نام زبان پر آتے ہی ان کے لئے ہم دعا ئیں کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی لئے کہ منافق نہایت قلیل تھے اور قلیل التعداد ہونے کی وجہ سے وہ کسی شمار میں نہیں آسکتے تھے۔ایک حسین انسان کسی خفیف سے جسمانی نقص کی وجہ سے مثلا اگر اس کی انگلی پر مسہ نکلا ہوا ہو یا فرض کرو اس کی کمر پر کوئی داغ ہو۔بد صورت نہیں کہلا سکتا۔اور نہ مسے یا داغ کی وجہ سے اس کے حسن میں کوئی فرق آ سکتا ہے۔اگر ہم ایسے شخص کو حسین کہیں تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ تم نے اس بات کا استثنی نہیں کیا کہ اس کی کمر پر داغ ہے یا اس بات کا استثنی نہیں کیا کہ اس کی انگلی کی پشت پر مسہ نکلا ہوا ہے۔بے شک مہ ایک نقص ہے۔بے شک داغ ایک نقص ہے لیکن ایسے مقام پر مسے یا داغ کا ہونا جہاں نظر نہ پڑ سکے یا خاص طور پر وہ حسن کو بگاڑ کر نہ رکھ دے حسن کے خلاف نہیں ہو تا۔ایک شخص جسے سال دو سال میں ایک دو دن کے لئے نزلہ ہو جاتا ہے یا چھینکیں آنے لگ جاتی ہیں اسے لوگ بیمار نہیں کہتے بلکہ تندرست ہی کہتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی جماعت میں منافقوں کی قلیل تعداد موجود ہو تو اس قلیل تعداد کی بناء پر وہ خراب نہیں کہلاتی۔غرض ہم صحابہ کو اس لئے اچھا کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ بعض ظاہر میں صحابہ کہلانے والے ایسے تھے جو منافق تھے۔پھر بھی منافقوں کی تعداد نہایت قلیل تھی۔ورنہ ظاہری طور پر جس طرح انصار اور مہاجر رسول کریم ل لیول پر ایمان لائے تھے۔اسی طرح منافق ایمان لائے تھے وہ اسی زمانہ میں ایمان لائے جس زمانہ میں صحابہ ایمان لائے۔انہوں نے بیعت کے وقت وہی کلمات کے جو صحابہ نے کہے اور انہوں نے بھی اسی رنگ میں اظہار عقیدت کیا جس رنگ میں صحابہ نے کیا۔مگر صحابہ تو کچھ عرصہ کے بعد اپنے اخلاص میں اور بھی ترقی کر گئے۔لیکن