مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 206
206 کہتے ہیں) اس محلہ کے لوگ نہ تو نمازوں کے لئے باقاعدہ جمع ہوتے ہیں نہ پڑھانے کے لئے جاتے ہیں اور نہ ہی پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔اسی طرح مجھے ہمیں لوگوں کی ایسی لسٹ دی گئی ہے جنہیں اس محلہ کے ان پڑھوں کو تعلیم دینے کے لئے مقرر کیا گیا مگر کسی نے کوئی عذر کر دیا اور کسی نے کوئی اور جس نے مان بھی لیا وہ بھی پڑھانے کے لئے نہیں گیا۔اور جب ان میں سے بعض کو کہا گیا کہ تمہیں اس جرم کی سزا دی جائے گی تو ان میں سے رونے کہا کہ ہم خدام الاحمدیہ سے استعفیٰ دے دیں گے۔مگر انہیں یا درکھنا چاہئے وہ خدام الاحمدیہ سے استعفیٰ نہیں دے سکتے بلکہ انہیں احمدیت سے استعفے دینا پڑے گا۔یہ پانچ کام ہیں جو مجھ میں نے کئے۔یہی پانچ کام ہیں جو صحابہ نے کئے اور یہی پانچ کام ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئے۔ہر شخص جو یتلوا عـلـيـهـم ایـتـه کے مطابق تعلیم قرآن کا کام نہیں کرتا تعلیم قرآن کے کام کی اہمیت بلکہ تعلیم قرآن کے کام سے گریز کرتا ہے۔وہ اس سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ہر شخص جو تبلیغ سے گریز کرتا ہے وہ تبلیغ سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ہر شخص جو دوسروں کی تربیت سے گریز کرتا ہے وہ تربیت کرنے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ہر شخص جو شرائع کی متیں بتانے سے گریز کرتا ہے وہ شرائع کی حکمتیں بتانے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔اور ہر شخص جو تزکیہ نفوس یا جماعت کی اقتصادی اور مالی ترقی کی تجاویز میں حصہ لینے سے گریز کرتا ہے ، وہ تزکیہ نفوس یا جماعت کی اقتصادی اور مالی ترقی کی تجاویز میں حصہ لینے سے گریز نہیں کرتا بلکہ احمدیت سے گریز کرتا ہے۔ایسے شخص کی نہ احمدیت کو کوئی ضرورت ہو سکتی ہے اور نہ اس کے لئے کوئی وجہ ہے کہ وہ احمدیت میں داخل رہے اور یہ کہہ کر وہ احمدی ہے اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے۔یا اگر اپنے نفس کو دھوکا نہیں دیتا تو جھوٹا اور مکار ہے۔اور ہر گز اس قابل نہیں کہ وہ مومنوں کی جماعت میں شامل رہ سکے۔یہ پانچ کام ضروری ہیں اور جماعت کے ہر فرد کو ان میں حصہ لینا پڑے گا۔اور جب تک وہ طوعا یا کرہا ان کاموں میں حصہ نہیں لیں گے وہ کبھی صحیح صحیح معنوں میں صحابہ کے مثیل معنوں میں صحابہ کے مثیل نہیں کہلا سکیں گے۔آخر تمہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا صحابہ اپنی مرضی سے ہی تمام کام کیا کرتے تھے۔وہ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرتے تھے بلکہ رسول کریم ادلے کے احکام کی متابعت میں تمام کام کرتے تھے۔رسول کریم علیه السلام فرماتے تھے کہ جہاد کیلئے چلو اور رسب چل پڑتے تھے اور جو نہ چلتا تھا اسے جبری طور پر لے جایا جاتا تھا۔میں نے چاہا تھا کہ طوعی طور پر جماعت کو ان قربانیوں میں حصہ لینے کیلئے آمادہ کیا جائے۔مگر معلوم ہو تا ہے ساری جماعت طوعی طور پر قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ منافقوں پر مشتمل ہے اور وہ ہمیں اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ ہم اسے اپنی جماعت میں سے خارج کر دیں یا اگر وہ منافق نہیں تو ایسے کون لوگ ہیں جو ڈنڈے کے محتاج ہیں اور جیسے رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو سزا دی تھی جو جہاد کے لئے