مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 186

186 کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ اس علم کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کہہ دے کہ میں اس وقت تک اپنے بیٹے سے محبت نہیں کر سکتا جب تک اس کا پیٹ چاک کر کے یہ دیکھ نہ لوں کہ اس کا معدہ کہاں ہے اور جگر کہاں ہے اور تلی کہاں ہے اور پھیپھڑے کہاں ہیں۔پھر جب اپنے بیٹے کے متعلق انسان ایسی بحثوں میں نہیں پڑتا تو خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق وہ کیوں آپریشن کرنا چاہتا ہے اور کیوں یہ خیال کرتا ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق میرا فلاں فلاں سوال حل نہ ہو جائے اس وقت تک میرا دل اس سے محبت نہیں کر سکتا۔اگر خدا تعالیٰ کے بے شمار احسانات انسانوں پر ثابت ہو جائیں۔اگر یہ واضح ہو جائے کہ انسان کو ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کی ضرورت ہے۔اگر اس کے قرب کی راہیں انسان پر کھل جائیں۔اگر عرفان اور محبت الہی کی ضرورت انسان پر واضح ہو جائے اور اگر یہ بات کھل جائے کہ ہر انسان اس بات کا محتاج ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے تو پھر انسان کو اس سے کیا کہ خدا تعالی ازلی ابدی کیونکر ہو گیا۔وہ غیر محدود کس طرح ہو گیا۔اس نے نیست سے ہست کس طرح کر دیا۔تم ان باتوں کو چھوڑ دو کہ ان کا محبت الہی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ کسی انسان کی یہ طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بے انتہاء اندرونی اسرار کو معلوم کر سکے۔تو ہر بات کی حکمت سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ محبت کے لئے صرف اس قدر معرفت ضروری ہے کہ انسان کو وہ محاسن اور خوبیاں معلوم ہو جائیں جو اس کے محبوب کے اندر ہوں۔اسے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ یہ بھی دیکھے کہ اس کے محبوب کا جگر کہاں ہے اور معدہ اور گردے اور پھیپھڑے کہاں ہیں مگر پھر بھی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں کی کمتیں سمجھا دیتا ہے جن کی حکمتیں معلوم کرنے کی محبت اور معرفت کے لئے ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ان حکمتوں کا اس سے کوئی تعلق ہو تا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک دوست نے مجھ سے مغرب کی فرض نماز کی تین رکعتیں کیوں مقرر ہیں سوال کیا کہ مغرب کی فرض نماز کی تین رکعتیں کیوں مقرر ہیں اور ان رکھتوں کی تعداد تین مقرر کرنے میں کیا حکمت ہے۔میں چونکہ بعض خطبات اور خطوط وغیرہ میں نماز کی رکھتوں کی حکمت کے متعلق وقتا فوقتا بعض باتیں بیان کر چکا ہوں اس لئے میں نے انہیں کہا کہ بعض دوستوں کے خطوں کے جوابات اور خطبوں وغیرہ میں ایسی باتیں چھپ چکی ہیں۔آپ اگر چاہیں تو انہیں تلاش کر کے دیکھ لیں۔وہ ایک دعوت کا موقعہ تھا جب یہ سوال میرے سامنے پیش ہوا اور پھر اس کے بعد ا۔باتیں شروع ہو گئیں اور اس سوال کا خیال میرے ذہن سے بالکل جاتا رہا۔اس کے بعد ایک دن گزرا پھر دوسرا دن گزرا اور پھر تیسرا دن شروع ہو گیا۔تیسرے دن مغرب کی نماز کے بعد سنتیں پڑھ کر میں تشہد میں بیٹھا تھا اور سلام پھیرنے کے قریب تھا کہ یک دم اللہ تعالیٰ نے مغرب کی نماز کی تین رکعتیں مقرر کرنے کی ایک جدید حکمت میرے دل میں ڈال دی اور عین سلام پھیرنے کے قریب جس طرح بجلی کی رو جسم میں سرایت کر جاتی ہے اسی طرح وہ علم میرے دل پر