مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 185

185 ان سے کہنے لگا میں نے فلاں دوائی کے اتنے قطرے لکھے ہیں۔اور فلاں دوائی کی مقدار اتنے گرین لکھی ہے۔میں بوڑھا ہونے کو آگیا ہوں اور چند مہینوں میں ریٹائر ہونے والا ہوں۔میں نہیں بتا سکتا کہ ایک دوا کے اتنے قطروں میں کیا حکمت ہے اور دوسری دوا کے اتنے گرین ہونے میں کیا حکمت ہے مگر یہ یاد رکھئے کہ اگر آپ میرے نسخہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو قطروں اور گرینوں میں کوئی فرق نہ کیجئے۔یہ نسبت اگر قائم رہے گی تو نسخہ فائدہ دے گا اور اگر آپ نے نسبت قائم نہ رکھی تو پھر میں اس نسخہ کے مفید ہونے کا ذمہ دار نہیں۔اگر آپ پوچھیں کہ ان دواؤں کی مختلف نسبتوں میں کیا حکمت ہے تو یہ میں بتا نہیں سکتا مگر میرا ہمیشہ کا تجربہ ہے کہ یہی نسبت اگر اس نسخہ میں قائم رکھی جائے تو فائدہ ہوتا ہے ورنہ نہیں ہو تا۔اب اس نسخہ کی دواؤں کے اور ان کی نسبت میں کوئی حکمت ضرور تھی اور اس ڈاکٹر کا وسیع تجربہ یہی بتا رہا تھا کہ اگر اس نسبت کو قائم رکھا جائے تو فائدہ ہوتا ہے اور اگر قائم نہ رکھا جائے تو فائدہ نہیں ہو تا مگر وہ بتا نہیں سکتا تھا کہ اس میں کیا حکمت ہے اور اس نے ڈاکٹر صاحب کو بار بار کہا کہ اس نسخہ کے اجزاء کے اوزان میں کمی بیشی نہ ہو کیونکہ اسی نسبت سے ہزاروں لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور اگر اس نسبت کو قائم نہ رکھا جائے تو فائدہ نہیں ہوتا۔ای طرح اللہ تعالیٰ کی بعض باتوں کی اللہ تعالی کی بعض باتوں کی حکمت انسانی سمجھ میں نہیں آتی حکمت انسانی سمجھ میں نہیں آتی مگر بہر حال جب ان باتوں کے فوائد ظاہر ہوں تو انسان حکمت معلوم کرنے کے جنون میں فائدہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو تا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہی لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ تم نے کبھی کسی باپ کو نہیں دیکھا ہو گا جس کی اپنے بیٹے سے اس لئے محبت کم ہو گئی ہو کہ اسے معلوم نہیں کہ اس کی تلی کہاں ہے اور اس کا معدہ کہاں ہے اور اس کا جگر کہاں ہے اور اس کے پھیپھڑے کہاں ہیں۔ہزاروں لاکھوں زمیندار ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ انسان کا دل کہاں ہو تا ہے اور اس کا گردہ ، جگر معدہ اور پھیپھڑے کہاں ہوتے ہیں۔شاید تم میں سے ، کئی اپنے دل میں کہتے ہوں گے کہ یہ کون سی بڑی بات ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دل کہاں ہو تا ہے اور جگر کہاں ہو تا ہے اور تلی کہاں ہوتی ہے اور معدہ کہاں ہوتا ہے مگر میں تمہیں بتاؤں اگر تم کسی ڈاکٹر کے سامنے کہو کہ جگر یہاں ہوتا ہے اور معدہ یہاں تو وہ فورا تمہیں بتا دے گا کہ تم غلط سمجھتے ہو۔پھر ان لوگوں کو جانے دو جو جانتے ہی نہیں کہ معدہ ، تلی ، جگر ، گردہ اور پھیپھڑے وغیرہ کہاں ہوتے ہیں۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں ان باتوں کا علم ہے ، میں نے دیکھا ہے ان میں سے دس میں سے نو ہمیشہ انتڑیوں کی جگہ کو معدہ سمجھتے ہیں یعنی جو قولون (colon) کی بڑی انتری ہوتی ہے ، ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ہمیشہ اس کو معدہ سمجھتا ہے اور دل میں یہ خیال کر کے خوش رہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ڈاکٹری میں بھی جانتا ہوں۔وہ ہمیشہ انتڑیوں کی جگہ کو معدہ سمجھتا ہے اور ہاتھ لگا کر کہتا ہے میرے معدے میں درد ہو رہا ہے حالانکہ وہ درد معدہ میں نہیں بلکہ انتری میں ہوتا ہے۔تو تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی صحیح طور پر ان اعضاء کا علم نہیں ہو تاکجا یہ کہ غیر تعلیم یافتہ طبقہ کو ان باتوں کا علم ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ