مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 184

184 بچپن سے میں نے مہاشات کے میدان میں قدم رکھا ہوا ہے۔گو مجھے اس قسم کے مباحثات سے نفرت ہے جو مولوی کیا کرتے ہیں مگر دوسروں سے علمی تبادلہ خیالات میں بچپن کے زمانہ سے کرتا چلا آ رہا ہوں۔پس اس بارے میں میرا پینتیس سالہ تجربہ یہ ہے کہ میں نے آج تک دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں دیکھا جو کوئی ایسی بات پیش کر سکے جو قرآنی اور احمدی تعلیم کے مقابلہ میں معقول بھی قرار دی جاسکے۔ہر مذہب کے پیروؤں سے میں نے باتیں کیں اور ہر قسم کے علوم رکھنے والوں سے میری گفتگو میں ہو ئیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ایسا ہوا کہ یا تو ان کے اپنے ساتھیوں نے اقرار کیا کہ ہمارے آدمی کو جواب نہیں آیا اور یا انہوں نے کہا کہ ہمارے آدمی نے تعصب اختیار کر لیا ہے ورنہ آپ کے مقابلہ میں جو بات پیش کی جارہی ہے یہ کوئی معقول نہیں۔دنیا کا کوئی اعتراض ایسا نہیں جو قرآن مجید پر پڑتا ہو اور اس کا کافی اور شافی جواب ہمارے پاس موجود نہ ہو یا اللہ تعالیٰ ایسے موقعوں پر مجھے جواب سمجھا نہ دیتا ہو بلکہ میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ایسے سوالوں کے جواب بھی سمجھا دیتا ہے جو در حقیقت خارج از ضرورت ہوتے ہیں اور جنہیں پیش کرنا کوئی معقولیت نہیں ہوتی۔دنیا میں ایسی کئی باتیں ہوتی ہیں جن کا دریافت کرنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا تا۔اب اگر کوئی شخص ایسا سوال کرے اور اس کا جواب نہ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا مثلا اگر کوئی پوچھے کہ ظہر کی چار رکھتیں کیوں مقرر ہیں اور مغرب کی تین کیوں اسی طرح عشاء کی چار رکعتیں کیوں ہیں اور فجر کی دو کیوں تو اس بات کا جواب دینا ہمارے لئے کوئی ضروری نہیں۔اگر ہم نماز پڑھنے والے کا خدا تعالیٰ سے تعلق ثابت کر سکتے ہیں۔اگر نماز کے متعلق یہ دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ روحانی ترقی کا صحیح ذریعہ ہے تو اس کے بعد کسی کا یہ کہنا کہ مغرب کی تین رکعتیں کیوں ہیں اور فجر کی دوکیوں یا ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نماز کی چار چار رکعتیں کیوں ہیں ، ایک غیر ضروری سوال ہے۔خدا تعالیٰ کی ان رکعتوں کے مقرر کرنے میں باریک دربار یک عمتیں ہیں جو ضروری نہیں کہ انسان کی سمجھ میں آسکیں اور اس کا ان حکمتوں کی دریافت کے پیچھے پڑنا نادانی ہے۔اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب اس پر یہ بات کھل گئی ہے کہ نماز پڑھنا خداتعالی کا حکم ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالی کا قرب حاصل ہو تا ہے تو وہ نماز پڑھے۔اسے اس سے کیا کہ تین رکعتیں کیوں ہیں اور چار کیوں۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا کہ ایک دفعہ میں باہر سفر میں تھا کہ میرے لئے ایک دوائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔قریب ہی ہسپتال تھا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب وہاں دوا لینے گئے۔سول سرجن صاحب جو اس وقت ہسپتال میں موجود تھے انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ انہیں ہسپتال لے آئیں۔میری مدت سے یہ خواہش ہے کہ انہیں دیکھوں۔اس طرح میں اپنی خواہش کو بھی پورا کر سکوں گا اور انہیں دیکھ کر کوئی نسخہ بھی تجویز کردوں گا چنانچہ میں گیا اور اس نے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کو ایک نسخہ لکھوایا۔اس میں صرف تین دوا ئیں پڑتی تھیں۔ایک ٹنکچر نکس وامیکا تھی دوسرا سوڈا بائی کارب اور تیسری دوائی مجھے یاد نہیں رہی۔اس نے کہا کہ یہ نسخہ ہے جو تیار کر کے انہیں استعمال کرایا جائے۔پھر وہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی طرف مخاطب ہوا اور