مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 169
169 گی۔وہ کھیلے گا بھی کو دے گا بھی اور ان تمام حالات سے گزرے گا جن میں سے بچے عام طور پر گزرتے ہیں۔بچپن کی حالت کے لئے جو لوازم مخصوص ہیں کوئی بچہ خواہ بڑا ہو کر نبی ہونے والا ہو ، وہ بھی ان میں سے ضرور گزرے گا اور اس کی یہ حالت بعد کی زندگی میں اس کے لئے کسی اعتراض کا موجب نہیں ہو سکتی۔پس اس عمر میں ورزش کے ذریعہ بچہ کی تربیت اشد ضروری ہوتی ہے اور اسے کلی طور پر دماغی کام میں لگا دینا خطر ناک ہو تا ہے۔اس زمانہ میں اس کی صحیح تربیت کا طریق وہی ہے جو اسے کھیل کو د سکھائے۔پہلے تو جب وہ بہت چھوٹا ہو بچپن میں تعلیم کا ایک بہترین ذریعہ سبق آموز کہانیاں بھی ہیں کہانیوں کے ذریعہ اس کی تربیت ضروری ہوتی ہے۔بڑے آدمی کے لئے تو خالی وعظ کافی ہوتا ہے لیکن بچپن میں دلچسپی قائم رکھنے کے لئے کہانیاں ضروری ہوتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کہانیاں جھوٹی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے۔کبھی حضرت یوسف کا قصہ بیان فرماتے۔کبھی حضرت نوح کا قصہ سناتے اور کبھی حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان فرماتے مگر ہمارے لئے وہ کہانیاں ہی ہوتی تھیں گو وہ تھے کچے واقعات۔ایک حاسد و محسود کا قصہ الف لیلہ میں ہے وہ بھی سنایا کرتے تھے۔وہ سچا ہے یا جھوٹا بہر حال اس میں ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح ہم نے کئی ضرب الامثال جو کہانیوں سے تعلق رکھتی ہیں ، آپ سے سنی ہیں۔پس بچپن میں تعلیم کا بہترین ذریعہ کہانیاں ہیں۔گو بعض کہانیاں بے معنی اور بیہودہ ہوتی ہیں مگر مفید اخلاق سکھانے والی اور سبق آموز کہانیاں بھی ہیں اور جب بچہ کی عمر بہت چھوٹی ہو تو اس طریق پر اسے تعلیم دی جاتی ہے۔پھر جب وہ ذرا ترقی کرے تو اس کے لئے تعلیم و تربیت کی بہترین چیز کھیلیں ہیں۔کتابوں کے ساتھ جن چیزوں کا علم دیا جاتا ہے کھیلوں سے عملی طور پر رہی تعلیم دی جاتی ہے مگر کہانیوں کا زمانہ کھیل سے نیچے کا زمانہ ہے لیکن کوئی عقلمند کبھی یہ پسند نہیں کر تاکہ اس کے بچوں کو کہانیاں سنانا یا کہانیاں بتانا کلی طور پر کسی جاہل کے سپرد کر دیا جائے یا بچوں ہی کے سپرد کر دیا جائے بلکہ اس کام پر ہر قوم کے بڑے بڑے ماہرین فن لگے رہتے ہیں۔دنیا کے بہترین مصنف جو لاکھوں روپے سالانہ کماتے ہیں وہ کہانیاں ہی لکھتے ہیں گو اب بہت سی کہانیاں بڑے لوگوں کو مد نظر رکھ کر لکھی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کہانیاں اگر بڑے لوگوں کے لئے ہوں تو وہ بھی بچپن ہی سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ در حقیقت وہ انسان کی بچپن کی حالت سے ہی تعلق رکھتی ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پر بڑی عمر میں بھی بچپن کے زمانہ کے دورے آتے رہتے ہیں اور اسی وقت وہ کہانیوں کی طرف راغب ہوتا ہے یعنی اس کا دماغ تھک کر سنجیدہ اور مشکل طریق پر دنیا سے سبق حاصل کرنے کے قابل نہیں رہتا اور اس وقت وہ چاہتا ہے کہ کہانیوں کے ذریعہ سے دنیا کے تجارب اور علوم حاصل کرے۔پس وہ بھی بچپن کے مشابہ ایک حالت ہے اور اس کام کے لئے قوموں کے بہترین دماغ لگے رہتے ہیں اور یہ کافی نہیں سمجھا جانا کہ کم علم اور جاہل لوگ اس کام کو کریں لیکن تعجب ہے کہ اس کے بعد کے زمانہ کی تعلیم کے