مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 156

156 کا خیال نہیں کرتے۔صدقہ و خیرات میں بھی کچھ ایسے دلیر نہیں لیکن تھوڑا بہت دے دیتے ہو یا کم سے کم اگر زکوۃ تم پر فرض ہو تو تم اس کی ادائیگی میں تساہل سے کام نہیں لیتے تو تم یقینا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو گے کیونکہ گو تم نے محل تیار نہیں کیا مگر تم نے سرکنڈوں کی دیواریں بنا کر ایک چھت ڈال لی ہے اور اس وجہ سے تم اس بات کے مستحق ہو گئے ہو کہ تم مکان کا فائدہ حاصل کر لو۔یہی وہ چیز ہے جس کو ذہانت کہتے ہیں یعنی اپنے علم کو ایسے طرز پر کام میں لانا اور اس سے فائدہ اٹھا نا کہ انسان کی چاروں طرف نگاہ رہے اور کوئی گوشہ اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے۔اسی ذہانت کا یہ کرشمہ ہے کہ جب کسی ذہین آدمی سے بات کی جائے تو وہ فورا سمجھ جاتا ہے کہ یہ بات مجھ سے کیوں کی جارہی ہے۔کہنے والے کا مقصد کیا ہے۔کن حالات میں یہ مجھ سے بات کر رہا ہے۔اس میں کہنے والے کا کیا فائدہ ہے اور میرا اس میں کوئی فائدہ ہے یا نقصان اور کیوں میرے ساتھ بات کی جارہی ہے۔اس کا کیا مقصد اور کیا مدعا ہے مگر دوسرا آدمی بے وقوفی کر کے کچھ کا کچھ نتیجہ نکال لیتا ہے۔پس ذہین وہ شخص ہے جو چاروں گوشوں پر نگاہ رکھے مگر وہ جو صرف علم کی حد تک محدود رہتا ہے اور بات کی تہہ تک نہیں پہنچتا اسے ہم ذہین نہیں کہہ سکتے جیسا کہ میں نے اپنے بعض سفروں کا حال بیان کیا ہے۔اب اگر میرے ساتھ سفر کرنے والے ذہین ہوتے تو وہ کہتے کہ ہمیں کوئی ایسا پہلو اختیار نہیں کرنا چاہئے جو بعد میں کسی خفت اور بدنامی کا موجب ہو اور انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جب سفروں میں چیزوں کے گم ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے تو وہ ایسا طریق اختیار کریں جس سے کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔ریکار ڈ اور انڈیکس کی اہمیت سٹیٹکس (STATICS) کا طریق ایجاد کیا ہے۔اگر ریکارڈ نہ ہو تو گزشتہ امور سے فائدہ اٹھانے میں سخت دقت پیش آتی ہے۔اب سب دنیا میں دفتر موجود تھے ، رجسٹر موجود تھے خطوط موجود تھے ، کاغذات موجود تھے مگر ریکار ڈ اور سٹیٹکس نہ رکھے جاتے تھے۔انگریزوں نے جب ان چیزوں کو دیکھا تو انہوں نے ذہنی طور پر فیصلہ کیا کہ اپنے کاموں سے تجارب حاصل کرنے کے لئے کوئی طریق ایجاد کیا جائے چنانچہ انہوں نے ریکار ڈرکھنے اور سٹیٹکس کا طریق ایجاد کیا۔گویا علم موجود تھا مگر لوگ ذہانت سے کام نہ لینے کی وجہ سے اس کی حفاظت سے غافل تھے۔انگریزوں نے اس علم کو ذہانت سے کام لیتے ہوئے اپنے تجربوں سے فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ نکال لیا۔اسی طرح روزانہ ہمارے مشاہدہ میں بات آتی ہے کہ دو شخص ہیں۔دونوں کے پاس کتابیں ہیں مگر ایک نے ان کتابوں کا انڈیکس بنایا ہوا ہو تا ہے اور دوسرے نے انڈیکس نہیں بنایا ہو تا۔اب وہ جس نے انڈیکس بنایا ہوا ہو تا ہے، وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے زیادہ فائدہ اٹھالیتا ہے مگر دو سرا عدم ذہانت کی وجہ سے باوجود اس کے کہ علم اس کے پاس بھی موجود ہے اس طرح فائدہ نہیں اٹھا سکتا جس طرح ذہین شخص اٹھاتا ہے تو نو جوانوں کو ذہین بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ ہم انہیں ذہین کس طرح بنا سکتے ہیں۔کئی ہیں جو سخت کند ذہن ہوتے ہیں اور انہیں ہزار بار بھی کوئی بات سمجھائی جائے تو وہ ان کی سمجھ میں انگریزوں نے اسی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریکارڈ اور