مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 155
155 اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب محض تمام احکام اسلام پر عمل پیرا ہو کر خدا کا قرب میسر آتا ہے نمازوں کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اور جس قدر احکام اسلام ہیں ان سب پر عمل کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔اگر تم نماز یں تو پڑھتے ہو لیکن تم میں جھوٹ کی عادت ہے یا نمازیں تو پڑھتے ہو مگر روزے نہیں رکھتے یا روزے تو رکھتے ہو مگر زکوۃ نہیں دیتے یا زکوۃ تو دیتے ہو مگر مالدار ہونے کے باوجود اور سفر کی سہولت ہونے کے باوجو د حج نہیں کرتے یا تم نماز میں بھی پڑھتے ہو ' روزے بھی رکھتے ہو ، حج بھی کرتے ہو مگر کسی غریب کا مال ظالمانہ طور پر کھا جاتے ہو تو تمہارا یہ امید کرنا کہ تمہاری نمازیں، تمہارے روزے اور تمہارا حج تمہیں فائدہ دے نادانی ہے کیونکہ تم اپنی روحانی عمارت کو چاروں گوشوں سے مکمل نہیں کرتے۔تم اگر ایک طرف پچاس فٹ چوڑی دیوار بھی کھڑی کر دیتے ہو تو وہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی لیکن اگر تم چار انچ کی دیوار چاروں طرف بنا کر اس پر چھت ڈال لو تو وہ عمارت تمہیں سردی گرمی سے محفوظ رکھ سکتی اور خطرات سے بچا سکتی ہے بلکہ چار انچ موٹی دیوار کیا اگر تم سرکنڈے لے کر ان کا ایک جھونپڑا بنالو یا بانس کی تیلیوں سے ایک جھونپڑی بنا لو تو گو وہ مضبوط نہیں ہوگی مگر تم اس میں امن سے رہ سکو گے۔تم سوفٹ چوڑی صرف ایک دیوار کھڑی کر کے فائدہ حاصل نہیں کر سکتے لیکن اگر تم آدھ انچ کی سرکنڈے کی دیواریں چاروں طرف کھڑی کر دو جیسا کہ عام طور پر بیٹ کے علاقہ میں زمیندار لوگ بناتے ہیں تو تم اس سے وہ تمام فائدے اٹھاؤ گے جو ایک مکمل عمارت سے اٹھائے جاسکتے ہیں کیونکہ تم اس جھونپڑی میں وہ تمام شرائط پوری کر دو گے جو ایک مکان کی تعمیر کے لئے ضروری ہیں۔تم اس میں رات کو سو بھی سکو گے۔تم سردی سے بھی بچ سکو گے۔تم بارش سے بھی محفوظ رہو گے اور چوروں سے بھی بچ رہو گے کیونکہ چور آخران سرکنڈوں کو توڑکر اندر داخل ہو گا اور جب وہ اندر داخل ہونے کے لئے سرکنڈے توڑے گا تو تمہاری آنکھ کھل سکتی اور تم اس کا مقابلہ کر سکتے ہو۔اسی طرح تم اس جھونپڑی میں بیٹھ کر پر وہ قائم رکھ سکتے ہو اور اگر میاں بیوی اندر بیٹھ کر اختلاط کر رہے ہوں تو کوئی ان پر نظر نہیں ڈال سکتا لیکن اس کی بجائے اگر تم سوفٹ چوڑی دیوار ایک طرف کھڑی کر دو اور باقی اطراف کو خالی رہنے دو تو تمہیں ان فوائد میں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر تم نمازیں پڑھتے ہو اور اس قدر تعمد اور احتیاط کے ساتھ پڑھتے ہو کہ ایک نماز کا بھی ناغہ نہیں ہونے دیتے لیکن تم روزوں میں ست ہو یا اگر تم روزوں میں تو اس قدر چست ہو کہ سال میں سے چھ مہینے روزے رکھتے ہو مگر ز کوۃ نہیں دیتے یا زکوۃ میں تو چست ہو مگر صدقہ و خیرات دینے میں ست ہو یا صدقہ و خیرات دینے میں تو اس قدر چست ہو کہ اپنا سارا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں غریبوں اور مسکینوں کو دے دیتے ہو لیکن جھوٹ بول لیتے ہو تو تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو صرف ایک طرف دیوار کھڑی کر کے اس سے پورے مکان کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اگر تم تھوڑا سا مال صدقہ و خیرات کر دیتے ہو اور زیادہ صدقہ نہیں کرتے۔نمازیں صرف پانچ وقت کی پڑھتے ہو ، نوافل اور تہجد ادا نہیں کرتے۔رمضان کے صرف تمہیں روزے رکھتے ہو لیکن نفلی روزوں کے رکھنے