مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 154

154 ذہن تیز ہوں اور یہ چیز علم سے بھی مقدم ہونی چاہئے کیونکہ تھوڑے علم سے انسان نجات پاسکتا ہے لیکن ذہن کے کند ہونے کی وجہ سے خواہ انسان کے پاس کتنا بڑا علم ہو نجات سے محروم رہ جاتا ہے۔ہم یورپین قوموں کو دیکھتے ہیں۔ایک لمبے تجربہ کی وجہ سے ان میں ذہانت کا نہایت بلند معیار قائم ہے حالا نکہ وہ شراب نوش قومیں ہیں۔وہ سور کھاتی ہیں مگر باوجود شراب نوش اور مردار خور ہونے کے ان کے ذہن نہایت تیز ہوتے ہیں کیونکہ ایک وسیع تجربہ نے ان کے دماغوں میں نہایت صفائی پیدا کر دی ہے۔پچھلے دنوں جب جنگ کا خطرہ پیدا ہوا تو انگریز مدبرین نے ہر طرح کی کوشش کر کے اس جنگ کو روکا مگر جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ لڑائی میں کودنا پسند نہیں کرتے تھے یا بزدلی اس کی محرک تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے سارے ملک کے انتظام پر نگاہ ڈالی اور انہوں نے محسوس کیا کہ ابھی ہمارے اندر کئی قسم کی خامیاں ہیں اور اگر ہم اس وقت لڑ پڑے تو ہماری شکست کا خطرہ ہے۔پس وہ بزدلی یا بے غیرتی کی وجہ سے پیچھے نہیں ہے جیسا کہ غلطی سے سمجھا جاتا ہے بلکہ انہوں نے جب اپنے انتظام پر نگاہ دوڑائی تو انہیں اپنے انتظام میں بعض نقائص اور خلل نظر آئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت لڑنا ٹھیک نہیں۔بے شک ان کے پاس جنگ کا سامان بھی کم تھا مگر جیسا کہ بعض مدبرین نے کہا ہے اگر جنگ میں وہ کو دپڑتے تو وقت پر تمام سامان مہیا کیا جاسکتا تھا مگر انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے تمام سامان مہیا بھی کر لیا تب بھی ہمار ا نظام ابھی ایسا مکمل نہیں کہ ہم اس سامان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔پس انہوں نے دانائی سے کام لے کر جنگ کے خطرہ کو دور کر دیا لیکن اگر کوئی ایشیائی ہو تاتو وہ ایسے موقعہ پر سوائے اس کے اور کچھ نہ کہتا کہ غیرت، غیرت کو دپڑو اور مرجاؤ حالانکہ قوم کا صرف مرجانا ہی کام نہیں ہو تا بلکہ فتح پانا بھی کام ہو تا ہے۔تو ہمارے نوجوانوں کو زمین بننا چاہئے اور ان کی نظر وسیع نوجوانوں کی نظر وسیع ہونی چاہیئے ہونی چاہئے۔وہ جب بھی کوئی کام کریں انہیں چاہتے اس کے سارے پہلوؤں کو سوچ لیں اور کوئی بات بھی ایسی نہ رہے جس کی طرف انہوں نے توجہ نہ کی ہو۔یہی نقص ہے جس کی وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ روحانیت میں بھی ہمارے آدمی بعض دفعہ فیل ہو جاتے ہیں اور وہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر ہمیں خداتعالی کی محبت حاصل نہیں ہوتی حالا نکہ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ صرف نمازیں پڑھنے سے خدا تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ اس کا قرب انسان کو حاصل ہو سکتا ہے۔حقیقی دین تو ایک مکمل عمارت کا نام ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم مکمل عمارت کا فائدہ صرف ایک دیوار سے حاصل کرنا چاہتے ہو۔تم خود ہی بتاؤ اگر کسی قلعہ کی تین دیوار میں توڑ دی جائیں اور صرف ایک دیوار باقی رہنے دی جائے تو کیا اس ایک دیوار کی وجہ سے اس قلعہ کے اندر رہنے والا محفوظ رہ سکتا ہے۔یقین جب تک اس کی چاروں دیوار میں مکمل نہیں ہوں گی اس وقت تک اس قلعہ کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔