مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 144

آؤ محمود ذرا حال پریشاں کردیں اور اس پردے میں دشمن کو پشیماں کردیں خنجر ناز پہ ہم جان کو قرباں کردیں اور لوگوں کے لئے راستہ آساں کردیں کھینچ کر پرده رُخ یار کو عریاں کردیں وہ ہمیں کرتے ہیں ہم ان کو پریشاں کردیں کہ گداگر کو سلیماں کردیں وہ کریں کام کہ شیطاں کو مسلماں کردیں وہ ہم پہلے ان آرزوؤں کا کوئی ساماں کردیں دل میں پھر اس شہ خوباں کو مہماں کردیں ایک ہی وقت میں چھپتے نہیں سورج اور چاند یا تو رخسار کو یا ابرو کو غریاں کردیں آج بے طرح چڑھی آتی ہے لعل لب پر ان کو کہدو کہ وہ زلفوں کو پریشاں کردیں آدمی ہو کے تڑپتا ہوں چکوروں کی طرح کبھی بے پردہ اگر وہ زیخ تاباں کردیں دفعہ ویکھ چکے موسیٰ تو پردہ کیسا ان سے کہدو کہ وہ اب چہرہ کو عریاں کردیں اور پھر جان کو ہم ہدیۂ جاناں کردیں اک دل میں آتا ہے کہ دل بیچ دیں دلدار کے ہاتھ وہ کبریں دم کہ مسیحا کہ بھی حیرت ہو جائے شیر قالیس کو بھی ہم شیر نیستاں کردیں