مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 138
138 کرنی چاہئے۔لیکن اگر وہ اچھے ہیں تو ان سے نفرت کرنا اپنے اوپر اور اپنی قوم کے اوپر ظلم ہے۔چونکہ اپنے اپنے طور پر ہاتھ سے کام کرنے وقار عمل کی تحریک کا قومی اقتصادیات پر خوشگوار اثر کی نگرانی نہیں ہو سکتی اس لئے میں نے تحریک کی تھی کہ قومی طور پر یہ کام کیا جائے اور سڑکیں بنائی اور نالیاں درست کی جائیں تانگرانی ہو سکے اور دو سروں کو بھی تحریک ہو۔اس کے سوا بھی اس میں کئی فائدے ہیں۔مثلاً جس قوم میں یہ عادت پیدا ہو جائے اس کی اقتصادی حالت اچھی ہو جائے گی۔اس سے سوال کی عادت دور ہو جائے گی۔اس کے افراد میں سستی نہیں پیدا ہو گی۔پھر جن لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی ہو گی وہ چندے بھی زیادہ دے سکیں گے۔بچوں کو تعلیم دلا سکیں گے اور اس طرح ان کی اخلاقی حالت درست ہو گی۔تو اس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں مگر سب سے اہم امر یہ ہے کہ اس سے مذہب کو تقویت ہوتی ہے اور دنیا سے غلامی مٹتی ہے۔جب تک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کو ہاتھ سے کام کرنے کی عادت نہیں وہ کوشش کریں گے کہ ایسے لوگ دنیا میں موجود رہیں جو ان کی خدمت کرتے رہیں اور دنیا ترقی نہ کرے۔میری غرض یہ ہے کہ اس کام کو نہایت اہمیت دی جائے اور پورے اہتمام سے شروع کیا جائے۔افسوس ہے اس وقت تک کوئی مستعدی نہیں دکھائی گئی۔یہاں بھی خدام الاحمدیہ کو یہ کام شروع کر دینا چاہئے اور پھر دوسرے گاؤں اور شہروں میں بھی شروع ہو نا چاہئے۔گاؤں کے لوگوں کو صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔گاؤں میں بہت گند ہوتا ہے اور گاؤں کا دیہاتی علاقوں میں وقار عمل کے بہت مواقع موجود ہیں تو کیا کہنا مجھے خود کئی لوگوں نے یہ طعنے دیئے ہیں کہ سب سے زیادہ گند یہاں احمد یہ چوک میں ہوتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنے ساتھ بعض انگریز دوستوں کو یہاں لاتے رہے ہیں۔وہ سب اس بات کی تو تعریف کرتے ہیں کہ محلے بہت اچھے ہیں۔سڑکیں چوڑی ہیں مگر صفائی نہ ہونے کی شکایت وہ بھی کرتے تھے۔رسول کریم ملی و یا لیلی نے فرمایا ہے کہ رستہ سے کانٹا ہٹا دینا بھی نیکی ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو رستہ پر پاخانہ پھرتا ہے اس پر لعنت ہوتی ہے۔مگر شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ راستہ پر پاخانہ کرنا ہی لعنت کا موجب ہے۔گھر میں سے خواہ دس آدمیوں کا پاخانہ اٹھا کر گلی میں پھینک دو یہ کوئی بری بات نہیں۔میں پوچھتا ہوں کیا قادیان کی کوئی بھی گلی ہے جو صاف رہتی ہو۔رسول کریم میں نے گلی میں پاخانہ بیٹھنے سے کیوں منع فرمایا ؟ اس لئے کہ اس سے گندگی پھیلتی ہے۔وبائیں اور بیماریاں پھیلتی ہیں۔آپ نے ایک کے پاخانہ کرنے کو منع فرمایا ہے۔مگر تم ہو کہ دس کا پاخانہ گلی میں پھینک دیتے ہو اور پھر سمجھتے ہو کہ اس سے تم پر کوئی لعنت نہیں پڑتی۔پھر میں نے دیکھا ہے جانور ذبح کر کے بال پر او جھڑیاں اور ان کا پاخانہ وغیرہ سب گلی میں پھینک دیا جاتا ہے۔مرغیاں آکر ان کو نوچتی ہیں۔آنت تو ڑ کر الگ کر لیتی ہیں اور پاخانہ الگ ہو جاتا ہے اس پر پھر مکھیاں آکر بیٹھتی ہیں اور وہی پھر آئے اور کھانے کی چیزوں پر بیٹھتی ہیں۔پھر لوگ اسے کھا کر پاخانہ کرتے