مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 122
122 دنیا میں نہیں بلکہ ایک ایسی جنت میں ہیں جو خوبیاں ہی خوبیاں اپنے اندر رکھتی ہے حالانکہ یہ انفرادی واقعات ہیں۔کروڑوں اور اربوں میں سے کسی ایک انسان کا واقعہ ہے مگر یہ ایک واقعہ بھی انسانیت کو اتنا خوبصورت کر کے دکھا دیتا ہے کہ دنیا کے سارے گناہ نگاہوں سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔اسی طرح تجارتی دیانت کی بھی ہمارے اباء میں مثالیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص گھوڑے کو فروخت کرنے کے لئے بازار میں لایا اور اس نے کہا کہ اس کی پانچ سو درہم قیمت ہے۔ایک صحابی نے اس کو دیکھا اور پسند کیا اور کہا کہ میں یہ گھوڑا لیتا ہوں مگر اس کی قیمت میں پانچ سو درہم نہیں بلکہ دو ہزار درہم دوں گا کیونکہ یہ گھوڑا نہایت اعلیٰ قسم کا ہے اور اس کی قیمت اتنی تھوڑی نہیں جتنی تم بتاتے ہو۔اس پر گھوڑا بیچنے والا اصرار کرنے لگا کہ میں پانچ سو درہم لوں گا اور گھوڑا خریدنے والا اصرار کرنے لگا کہ میں دو ہزار درہم دوں گا۔ایک کہتا کہ اے شخص تجھے گھوڑے کی پہچان نہیں یہ گھوڑا زیادہ قیمت کا ہے اور دوسرا کہتا کہ میں صدقہ لینا نہیں چاہتا، میں اپنے گھوڑے کو جانتا ہوں اس کی قیمت پانچ سو درہم ہی ہے۔اس کے کتنا الٹ نظارہ آج دنیا میں نظر آتا ہے۔وہاں تو یہ تھا کہ چیز خرید نے والا قیمت بڑھاتا تھا اور بیچنے والا قیمت گرا تا تھا اور یہاں یہ حال ہے کہ دو دو آنے کی چیز بعض دفعہ دس دس روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔بمبئی میں میں نے ان دو سفروں میں جو حال ہی میں میں نے کئے ہیں نہیں دیکھا لیکن آج سے پندرہ میں سال پہلے میں نے جو سفر کئے تھے ان میں دو دفعہ خود میرے ساتھ ایسا واقعہ ہوا۔بمبئی میں چونکہ عام طور پر نووار دلوگ آتے رہتے ہیں اور وہ قلموں کی شناخت کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے اس لئے بعض لوگوں نے وہاں یہ طریق اختیار کیا ہوا ہے کہ جب کسی اجنبی شخص کو دیکھیں گے اسے آملیں گے اور کہیں گے کہ میں مسافر ہوں مگر کرایہ کم ہو گیا ہے فلاں جگہ جانا چاہتا ہوں۔میرے پاس یہ قلم ہے اس کی پندرہ روپے قیمت ہے مگر آپ دس روپے ہی دے دیں تو میرا کرایہ بن جائے گا۔اب وہ قلم چھ سات پیسے کا ہو تا ہے مگر بعض دفعہ کوئی ایسا اناڑی بھی انہیں مل جاتا ہے جو اس ملمع کو دیکھ کر جو ٹین کے خول پر چڑھا ہوا ہوتا ہے سمجھتا ہے کہ یہ سودا بڑا ستا ہے اور وہ دس روپے پر اس سے قلم لے لیتا ہے حالانکہ وہ پانچ سات پیسے کا قلم ہو تا ہے۔پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو جھگڑا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قیمت زیادہ ہے ذرا کم کرو۔اس طرح وہ دس روپے سے نو روپے پر آتا ہے۔پھر آٹھ اور سات پر سات سے چھ پر چھ سے پانچ پر پانچ سے چار پر حتی کہ بعض دفعہ وہی قلم جس کی قیمت وہ پہلے پندرہ روپے بتلاتے ہیں چھ سات آنے پر دیتے ہیں اور لینے والا سمجھتا ہے کہ میں نے خوب لوٹا۔حالانکہ پھر بھی وہی شخص انہیں لوٹ کر لے گیا ہوتا ہے کیونکہ وہ قلم چند پیسوں کا ہوتا ہے اور وہ کئی آنے بٹو ر لیتا ہے۔خود میرے ساتھ بھی ایک دفعہ ایسا ہی ہوا مگر مجھے چونکہ بعض دوستوں نے یہ بات بتادی تھی اس لئے میں نے فورا کہہ دیا کہ مجھے ضرورت نہیں۔مگر وہ کہنے لگا دس نہ سہی نوہی دے دیں۔نو نہ سہی آٹھ ہی دے دیں۔آٹھ نہ سہی سات ہی دے دیں۔سات نہ کسی چھ ہی دے دیں۔اچھا! پانچ روپے ہی دے دیں۔جب میں نے کہا میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں تو کہنے لگا اچھا چار ہی دے دیجئے ، تین ہی دید یجئے دو