مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 119

۔119 پر تگیزی اسے فتح کرنے کی طاقت رکھتے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت صرف چند ہزا ر یا چند سو ایسے لوگ تھے جو دیانتدار تھے اور جو ملک کے لئے قربانی کرنے کی روح اپنے اندر رکھتے تھے۔باقی جس قد ر تھے وہ ٹھگ تھے وہ فریبی تھے ، وہ دھو کے باز تھے وہ رشوت خوار تھے وہ نمک حرامی کرتے تھے اور غیروں سے رشوتیں لے لے کر اپنے ملک کی حکومت کو آپ تباہ و برباد کرنے کے درپے ہو رہے تھے۔کیا ہی بد قسمت وہ ملک ہے جس میں ۳۳ کروڑ کی آبادی ہو مگر ملک کی خاطر چار پانچ ہزار آدمی بھی اس میں وفادار نہ ہو۔اس سے زیادہ بد قسمتی کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔پھر ملک کو جانے دو عقل کے ساتھ تو انہوں نے اپنے ساتھ بھی وفاداری نہیں کی۔حکومت تو گئی ہی تھی، تجارت کیوں گئی مگر ان کے ہاتھ سے تجارت کا نکل جانا بھی بتا تا ہے کہ یہ اپنے نفس اور اپنی ذات کے بھی وفادار نہیں۔اگر ان میں اپنے نفس کے ساتھ وفاداری کا ہی مادہ ہو تا تو ان کے ہاتھ سے تجارت کبھی نہ جاتی۔تو بد دیانتی ایسی چیز ہے جو بد دیانتی قومی اور انفرادی دونوں لحاظ سے قوموں کو تباہ کرتی ہے قوموں اور افراد کو چاہ کر دیتی ہے۔مگر جس قوم میں دیانت آ جائے اسے ہر جگہ عزت حاصل ہوتی ہے اور کوئی اسے ذلیل نہیں کر سکتا۔اسی طرح انفرادی دیانت جب کسی قوم میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اقتصادی طور پر بڑھتی چلی جاتی ہے۔مگر یہ انفرادی دیانت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک تجارتی دیانت اور ایک اخلاقی دیانت۔جن قوموں میں اخلاقی دیانت نہ ہو مگر تجارتی دیانت ہو وہ بھی نہیں گر تیں۔چنانچہ ہندوؤں کو ہی دیکھ لو۔بننے میں اخلاقی دیانت نہیں مگر تجارتی دیانت ہے تجارتی دیانت کے بل بوتے پر بعض اقوام کی ترقی اور اس وجہ سے وہ تجارت میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔یہودیوں میں بھی اخلاقی دیانت نہیں لیکن تجارتی دیانت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تجارت روز بروز بڑھ رہی ہے۔اسی طرح جس قوم میں اخلاقی دیانت پیدا ہو جائے اس کا اخلاقی طور پر دوسروں کے قلوب پر سکہ بیٹھ جاتا ہے اور اس قوم کے افراد جہاں جاتے ہیں لوگ ان سے مشورہ لیتے اور ان کی باتوں پر اپنے کاموں کا انحصار رکھتے ہیں۔لیکن جس قوم میں قومی دیانت بھی ہو ، تجارتی دیانت بھی ہو اور اخلاقی دیانت بھی ہو وہ قوم تو ایک پہاڑ ہوتی ہے۔یہ ممکن ہے کہ ہمالیہ پہاڑ کو اڑایا جا سکے مگر یہ ممکن نہیں کہ اس قوم کو برباد کیا جاسکے۔ایسی قوم نہ صرف خود محفوظ ہوتی ہے بلکہ اور لوگوں کی حفاظت کا بھی موجب ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ اور قومیں حوادث اور مصائب سے بچائی جاتی ہیں۔اور وہ دنیا کے لئے ایک تعویذ ہو جاتی ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ خدام الاحمد یہ نوجوانوں میں قومی ، تجارتی اور اخلاقی دیانت پیدا کرے سے کہتا ہوں کہ تینوں قسم کی دیانتیں تم لوگوں کے اندر پیدا کرو جس کا ذریعہ تمہارے پاس موجود ہے کیونکہ نوجوانوں کی باگ تمہارے