مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 113

113 اول: انہیں اپنے ممبروں کے اندر اور دوسری جماعت کے اندر بھی قومی روح پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جماعتی کاموں کے لئے قربانی کا مادہ پیدا کرنا چاہئے۔یہ پہلا مقصد ہے جو انہیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔دوسری بات میں نے کسی تھی کہ اسلامی تعلیم سے واقفیت پیدا کی جائے۔تیسری بات میں نے یہ کبھی تھی کہ آوارگی اور بیکاری کا ازالہ کیا جائے۔اب میں چوتھی بات خدام الاحمدیہ کو نو جوانوں میں اخلاق حسنہ پیدا کرنے پر زور دینا چاہئے بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ اچھے اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔اچھے اخلاق میں سے میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے بہترین اخلاق جن کا پیدا کرنا کسی قوم کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے وہ بیچ اور دیانت ہیں۔اور بھی بہت سے اخلاق ہیں مگریچ اور دیانت نہایت اہمیت رکھنے والے اخلاق ہیں۔جس قوم میں سچ پیدا ہو جائے اور جس قوم میں دیانت آ جائے وہ قوم نہ کبھی ذلیل ہو سکتی ہے اور نہ کبھی غلام بنائی جاسکتی ہے۔سچائی اور دیانت دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو ذلیل بنا تا اور ان دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو غلام بنا تا ہے۔ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ ہندوستان کی قومی دیانت کے فقدان نے ہندوستان کو انگریزوں کا غلام بنادیا غلامی کا ہمیشہ رونا روتا ہے لیکن اگر تم غور سے دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ ہندوستان کی غلامی کا موجب انسی دو چیزوں کا فقدان ہے۔تم ہندوستان کی تاریخ کو پڑھ جاؤ۔اتنے بڑے وسیع ملک کا انگریزوں کے ماتحت آجانا محض بد دیانتی کی وجہ سے تھا۔انگریزی فوجیں جو شروع زمانہ میں بعض دفعہ سینکڑوں کی تعداد سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں کبھی ہندوستان پر غالب نہیں آسکتی تھیں اگر ہندوستانیوں میں دیانت پائی جاتی۔بعض دفعہ تو تاریخ پڑھ کر یوں معلوم ہو تا ہے کہ گویا یہ ساری بات ہی جھوٹی ہے اور عقل تسلیم نہیں کرتی کہ مدر اس کے ایک چھوٹے سے علاقہ میں اقامت پذیر چند سو انگریز ہندوستان کی بڑی طاقتوں اور حکومتوں کو زیر کرتے چلے جائیں۔عقل اس کے باور کرنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ انسانی فطرت اس حد تک اخلاق کی گراوٹ کو تسلیم کرنا برداشت نہیں کرتی جس قسم کی گراوٹ اس زمانہ میں ہندوستانیوں میں پائی جاتی تھی۔کسی جگہ پر تو شہزادوں کو رشوت دے دی جاتی ہے کہ اگر تم اپنے باپ یا بھائی سے بغاوت کرو تو ہم تم کو اس کی جگہ گدی پر بٹھا دیں گے اور وہ بد دیانت اور ذلیل انسان اس رشوت کو قبول کر لیتے ہیں۔کسی جگہ وزراء کو یہ امید دلا دی جاتی ہے کہ ہم تمہاری ایک ریاست قائم کر دیں گے یا تم کو اس ریاست کا قبضہ دے دیں گے یا اور کوئی بڑا عہدہ دے دیں گے اور وہ ننگ انسانیت اس رشوت کو قبول کر لیتے ہیں اور انہی چالبازیوں کے ساتھ اور انہی رشوتوں کے ذریعہ یورپین اقوام جو نہایت قلیل تعداد میں ہندوستان میں آئیں