مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 103
103 کہ میں خدا کو نہیں مانتا یا محمد رسول اللہ لا الا اللہ کو نہیں مانتا اس لئے کہ نماز اور روزہ کی تعلیم بار بار اس کے سامنے دہرائی نہیں گئی مگر لا الہ الا الله محمد رسول اللہ بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔الها پس خدام الاحمدیہ انفرادی روح کو ملی روح پر قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال کریں اور اس کے لئے کوئی موزوں فقرہ بھی بنایا جائے جو کام شروع کرتے وقت بھی اور ختم کرتے وقت بھی دو ہرایا جائے اور نعرے بھی لگائے جائیں لیکن ایک بات کا خیال رکھا جائے کہ قومی روح توحید باری کے بغیر نہیں ہو سکتی اس لئے ایسے فقرہ میں توحید کا اقرار بھی ہو اور رسول کریم ملی یا یو ایم کی صداقت کا بھی اور پھر وہ چھوٹا بھی ہو اور ہر موقعہ پر اسے بار بار دہرانے کا انتظام بھی کیا جائے۔پھر جب بھی کوئی جماعتی تحریک ہو وہ اپنے نوجوانوں کا جائزہ لیتے رہیں کہ اس میں انہوں نے کیا حصہ لیا ہے۔سب اپنے اپنے ہاں کام کریں مگر ان سب سے رپورٹ لی جائے کہ کیا کیا ہے۔اس طرح بھی کام کرنے کی ایک رو پیدا ہوتی ہے اور پہلے جو غفلت کر رہے ہوتے ہیں ان کو بھی توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔دوسری خدام الاحمدیہ کو نو جوانوں کو اسلامی تعلیم اور اس کی روح سے واقف کرنا چاہئے بات جو انہیں اپنے پروگرام میں شامل کرنی چاہئے وہ اسلامی تعلیم سے واقفیت پیدا کرنا ہے۔یہ ایک مذہبی انجمن ہے سیاسی نہیں اور اس لئے اصل پروگرام یہی ہے۔باقی چیزیں تو ہم حالات اور ضروریات کے مطابق لے لیتے ہیں یا ملتوی کر دیتے ہیں۔لیکن ہمارا اصل پروگرام تو وہی ہے جو قرآن کریم میں ہے۔لجنہ ہمار ا جماعتی پروگرام قرآن کریم ہے اماءاللہ ہو ، مجلس انصار ہو خدام الاحمدیہ ہو ، نیشنل لیگ ہو " غرضیکہ ہماری کوئی انجمن ہو اس کا پروگرام قرآن کریم ہی ہے اور جب ہر ایک احمدی یہی سمجھتا ہے کہ قرآن کریم میں سب ہدایات دے دی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مضر نہیں تو اس کے سوا اور کوئی پروگرام ہو ہی کیا سکتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اصل پروگرام تو وہی ہے اس میں سے حالات اور اپنی ضروریات کے مطابق بعض چیزوں پر زور دے دیا جاتا ہے۔لیکن جب روزے رکھے جا رہے ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ حج منسوخ ہو گیا بلکہ چونکہ وہ دن روزوں کے ہوتے ہیں اس لئے روزے رکھے جاتے ہیں۔جب ہم کوئی پروگرام تجویز کرتے ہیں تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس وقت یہ امراض پیدا ہو گئے ہیں اور ان کے لئے یہ قرآنی نسخے ہم استعمال کرتے ہیں۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ سارا پروگرام سامنے ہو اور اس میں سے حالات کے مطابق باتیں لے لی جائیں۔لیکن اگر سارا پروگرام سامنے نہ ہو تو اس کا ایک نقص یہ ہو گا کہ صرف چند باتوں کو دین سمجھ لیا جائے گا۔