مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 92

92 اعلان کر کے باقی جماعت کے دوستوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا کریں بلکہ وہ کام کرنے کے لئے مجھے بھی بلا لیا کریں۔آخر اگر ہاتھ سے کام کرنا ثواب ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم دوسروں کو تو کہیں کہ اس ثواب میں حصہ لیں مگر خود اس ثواب میں شامل نہ ہوں۔یہ تو منافقت ہوگی کہ ہم دو سروں کو تو کہیں کہ فلاں کام بڑا اچھا ہے مگر خو دگھر میں بیٹھ رہیں۔ہاں اگر اس کام سے زیادہ بہتر اور زیادہ ضروری کام ہم کوئی کر رہے ہوں تو اس صورت میں بے شک اس کام میں حصہ نہ لینا حرج کی بات نہیں لیکن اگر اور کوئی ایسا ضروری کام نہ ہو تو میرے نزدیک اس وقت ہر چھوٹے بڑے کو اس کام میں حصہ لینا چاہئے اور میں چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے ممبران اپنے کام میں ہمیں بھی شمولیت کا موقعہ دیں۔اور یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ امور عامہ سویا ہوا ہے اور اسے اس طرف کوئی توجہ نہیں۔و قار عمل کیلئے تعین وقت کے سلسلہ میں حصہ لینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھا میرے نزدیک مجلس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ مہینہ دو مہینہ میں ایک دن ایسا مقرر کر دیں جس میں جائے۔ساری جماعت کو شمولیت کی دعوت دیں۔بلکہ میرے نزدیک شاید یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ بجائے ایک گھنٹہ کام کرنے کے سارا دن کام کے لئے رکھا جائے۔ایک گھنٹہ کا تجربہ کوئی ایسا مفید ثابت نہیں ہوا۔پس آئندہ کے لئے بجائے ایک گھنٹہ کے سارا دن رکھا جائے۔اور کوشش کی جائے کہ مہینہ دو مہینہ میں ایک دن تمام لوگ اس کام میں شریک ہوں۔بلکہ میرے نزدیک لوگوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ دو مہینہ میں ہی ایک دن ایسا ر کھا جائے جس میں تمام لوگ صبح سے شام تک اپنے ہاتھ سے کام کریں۔اس طرح سال میں چھ دن بن جاتے ہیں سال میں چھ مرتبہ صبح و شام تک کام کرنے کا پروگرام اس کے لئے یا توجمعہ کا دن رکھ لیا جائے کہ اس دن دفاتر میں چھٹی ہوتی ہے اور یا پھر آخری جمعرات کا دن رکھا جائے کہ اس دن بھی مدرسوں اور دفتروں وغیرہ میں چھٹی ہوتی ہے۔تاجروں کے لئے تو کوئی مشکل ہے ہی نہیں۔وہ ہر دن چھٹی کر سکتے ہیں۔پس دو مہینہ میں ایک دن ایسا مقرر کیا جائے اور اس میں سارا دن کام کیا جائے۔شاید سارا دن کام کرنا نتائج کے لحاظ سے زیادہ مفید ثابت ہو۔اس طرح سال میں چھ دن بن جاتے ہیں اور اگر ایک دن میں ایک ہزار آدمی بھی صبحت لے کر شام تک کام کریں تو چھ ہزار مزدور کا کام بن جاتا ہے اور چھ ہزار مزدور کا کام کوئی معمولی کام نہیں ہو تا بلکہ بہت اہم اور شاندار ہو تاہے۔بلکہ میرے نزدیک قادیان میں ہاتھ سے کام کرنے والے کم از کم چار ہزار افراد میں او۔اگر چار ہزار کی نسبت رکھی جائے تو چو ہیں ہزار مزدور بن جاتے ہیں۔اور چو ہیں ہزار مزدوروں کا نام ار ایک پروگرام کے ماتحت ہو تو بہت بڑا تغیر پیدا کر سکتا ہے۔بے شک ہم لوگ جو کام کے عادی نہیں مزدوروں جتہ نا کام