مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 19
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 19 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہیں۔یہ نہیں ہے کہ اوپر سے تو سلام کر رہے ہوں اور اندر سے بغض اور کینے اور حسد کی وجہ سے دوسروں کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہے ہوں۔شکایت کے جھوٹے پلندوں کی بھر مار ہو رہی ہو۔اگر دل اس دو عملی سے پاک اور صاف نہیں ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ دل پاک نہیں ہے اور اس میں کامل ایمان بھی نہیں ہے۔عیب اور الزام نہ لگائیں پھر بغیر سوچے سمجھے دوسرے پر عیب لگانے کی عادت ہے ، الزام لگانے کی عادت ہے۔ایسے لوگوں کو جو دوسرے پر عیب لگاتے ہیں خدا تعالیٰ نے فاسق اور ظالم کہا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے کہ {وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ } (الحجرات: 12) اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگا ڑ کر نہ پکارا کرو، ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔پس ہر احمدی کو جس نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے اس کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور اپنے آپ کو اس بُرے نام یعنی فاسق ہونے سے بچانا چاہئے۔فاسق وہ شخص ہے جو نیکی سے ہٹا ہوا ہواور بدکار ہو۔پس کسی دوسرے پر بدکاری کا یا کوئی اور الزام لگانے یا عیب تلاش کرنے کی بجائے ، اس کے پیچھے پڑ جانے کی بجائے اور اس وجہ سے خود اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس بات کا مجرم ٹھہرنے کی بجائے ، ہر ایک کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور اس ظلم سے باز آنا چاہئے۔بدظنی سے بچیں۔۔۔۔پھر ایک برائی بدگمانی ہے، بدظنی ہے، خود ہی کسی کے بارے میں فرض کر لیا جاتا ہے کہ فلاں دو آدمی فلاں جگہ بیٹھے تھے اس لئے وہ ضرور کسی سازش کی پلاننگ کر رہے ہوں گے یا کسی برائی میں مبتلا ہوں گے۔اور پھر اس پر ایک ایسی کہانی گھڑ لی جاتی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔اور پھر اس سے رشتوں میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔دوستوں کے تعلقات میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔معاشرے میں بھی فساد پیدا ہوتا ہے۔اس لئے قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس برائی سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔فرمایا {يَايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا } (سورة الحجرات آیت ۳۱)