مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 185

185 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ عالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم بنے رہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب جماعت نے اپنی ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کرتے ہوئے عہدیداران کی پریشانیوں کو غلط ثابت کیا ہے۔اس سال بھی انشاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی ہوگا۔اس کی تو مجھے فکر نہیں ہے لیکن جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے اس فرض کی طرف صحیح طور پر توجہ نہیں دیتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ پوری شرح سے چندہ دینے سے ان کی آمد میں کمی آجائے گی۔یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے والے ہو اور عبادت کی طرف توجہ دینے والے ہو تو اللہ تعالیٰ پر یہ بدظنی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے لئے رزق کی راہیں کھولنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ”جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے، خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتا دیتا ہے اور فرمایا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْتُ لا يَحْتَسِبْ وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں، وعدوں کو سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔پس خدا پر ایمان لاؤ، خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے۔يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ایک وسیع بشارت ہے ہم تقویٰ اختیار کر وخدا تمہارا کفیل ہوگا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود تفسیر سورۃ الطلاق جلد چہارم صفحہ 402) نا جائز کاروبار کبھی نہ کریں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ جائز ہیں یا نا جائز ہیں، ان کو چھوڑ نا بڑا مشکل ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کو رازق نہیں سمجھتے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے کہا تھا کہ جو لوگ سور کے گوشت پکانے یا بیچنے یا براہ راست اس کے کاروبار میں ملوث ہیں، اس سے منسلک ہیں ، وہ یہ کام نہ کریں یا اگر کرنا ہے تو پھر ایسے لوگوں سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔جس پر جرمنی کی جماعت نے ماشاء اللہ بڑی سختی سے عمل کیا ہے۔باقی جگہ دوسرے ملکوں میں بھی یہ ہونا چاہئے۔لیکن مجھے بعض لوگوں نے جو ایسی جگہوں پر کام کرتے تھے لکھا کہ ہماری تو روزی ماری جائے گی، یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا۔تو میں نے کہا جو بھی ہوگا اگر براہ راست اس کام میں ملوث ہو تو پھر تم سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔تم نے یہ روزی کھانی ہے تو کھاؤ ، اللہ کے مال میں اس کا حصہ نہیں ڈالا جائے گا۔