مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 184
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 184 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ضروریات کے لئے مالی قربانی کا بھی ذکر آتا ہے۔اس لئے ایک تو میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ جماعت میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زکوۃ کا نظام رائج نہیں اور ہم اس طرف توجہ نہیں دیتے۔جماعت میں زکوۃ کا نظام رائج ہے اور جن پر زکوۃ فرض ہے ان کو ادا کرنی چاہئے۔بعض منافق طبع یا کمزور لوگ یالا علم کہنا چاہئے ، بعض دفعہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بعض ذہنوں میں یہ سوال ڈالتے ہیں اور نئے شامل ہونے والے احمدی اس سے بعض دفعہ ٹھو کر بھی کھاتے ہیں کہ جماعت چندے کے اسلامی طریق کو رائج کرنے کی بجائے اپنا نظام چلاتی ہے۔ایک تو زکوۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے، اس کی کچھ شرائط ہیں جن کے ساتھ یہ فرض ہے اور دوسرے اس کی شرح اتنی کم ہے کہ آجکل کی ضروریات یہ پوری نہیں کر سکتی۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی زائد ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ، زکوۃ کے علاوہ زائد چندے لئے جاتے تھے۔زکوۃ کی اہمیت اور فرضیت سے کسی کو انکار نہیں۔اس لئے جن پر زکوۃ فرض ہے، ان کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ زکوۃ دینی لازمی ہے وہ ضرور دیا کریں اور خاص طور پر عورتوں پرتو یہ فرض ہے جوز یور بنا کر رکھتی ہیں۔سونے پر زکوۃ فرض ہے۔خلافت نبوت کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے دوسرے جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت نبوت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس زمانے میں خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی ہے۔اس لئے خلفاء کے مقرر کردہ چندے اور تحریکات اللہ تعالیٰ اور رسول کے حکم کے مطابق ہیں اس لئے ان کی ادائیگی کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔بعض لوگوں کو شرح پر اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں شرح نہیں تھی ، بعد میں مقرر کی گئی تو ضرورت کے مطابق مقرر کی گئی۔پس خلافت کے ساتھ وابستہ ہو کر جہاں قیام نماز ہوگا، زکوۃ کی ادائیگی ہوگی نمونے ہوں گے جس سے دین کی تمکنت قائم ہو، وہاں اللہ اور رسول کے حکموں پر عمل کر کے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے رحم کا وارث بھی بن رہا ہوگا۔ان دنوں میں بعض جماعتوں کو اپنے چندہ عام کے بجٹ پورے کرنے کی فکر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ پریشانی کا اظہار کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر ہمیشہ فضل رہا ہے اور افراد جماعت کو قربانی کے جذبے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق ملتی رہی ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو احسن رنگ میں پورا کرنے والے