مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 124

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 124 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی ایسی بچیوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ان کے یہ عمل ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ کسی طرح بھی جماعت میں رہنے کے حقدار نہیں ہیں۔دوسری قسم کے لڑکے وہ ہیں جو باہر سے آکر یہاں کی لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں اور فوری طور پر نکاح رجسٹر کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب نکاح رجسٹر ہو جائے اور ان کو ویزا وغیر ہل جائے تو پھر ان کو لڑکیوں میں برائیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں اور پھر علیحدگی اور اپنی مرضی کی شادی۔تو یہ دونوں قسم کے لوگ تقویٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔اپنی جانوں پر ظلم نہ کریں ، جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں اور تقویٰ پر قائم ہوں، تقویٰ پر قدم ماریں ، تقویٰ پر چلیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے ظلم کرنے والوں کو یا درکھنا چاہئے کہ ان پر بھی ایک بالا ہستی ہے جو بہت طاقتور ہے۔بغیر کسی جائز وجہ کے مشترکہ خاندانی نظام نہ اپنا ئیں پھر ایک بیماری جس کی وجہ سے گھر برباد ہوتے ہیں، گھروں میں ہر وقت لڑائیاں اور بے سکونی کی کیفیت رہتی ہے وہ شادی کے بعد بھی لڑکوں کا تو فیق ہوتے ہوئے اور کسی جائز وجہ کے بغیر بھی ماں باپ، بہن بھائیوں کے ساتھ اسی گھر میں رہنا ہے۔اگر ماں باپ بوڑھے ہیں، کوئی خدمت کرنے والا نہیں ہے، خود چل پھر کر کام نہیں کر سکتے اور کوئی مددگار نہیں تو پھر اس بچے کے لئے ضروری ہے اور فرض بھی ہے کہ انہیں اپنے ساتھ رکھے اور ان کی خدمت کرے۔لیکن اگر بہن بھائی بھی ہیں جو ساتھ رہ رہے ہیں تو پھر گھر علیحدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔آجکل اس کی وجہ سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔اکٹھے رہ کر اگر مزید گنا ہوں میں پڑنا ہے تو یہ کوئی خدمت یا نیکی نہیں ہے۔گزشتہ دنوں جماعت کے اندر ہی کسی ملک میں ایک واقعہ ہوا، بڑا ہی درد ناک واقعہ ہے کہ اسی طرح سارے بہن بھائی ایک گھر میں اکٹھے رہ رہے تھے کہ جائنٹ فیملی (Joint Family) ہے۔ہر ایک نے دو دو کمرے لئے ہوئے تھے۔بچوں کی وجہ سے ایک دیورانی اور جٹھانی کی آپس میں ان بن ہو گئی۔شام کو جب ایک کا خاوند گھر میں آیا تو اس نے اس کے کان بھرے کہ بچوں کی لڑائی کے معاملے میں تمہارے بھائی نے اور اس کی بیوی نے اس طرح باتیں کی تھیں۔اس نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ بندوق اٹھائی اور اپنے تین بھائیوں کو مار دیا اور اس کے بعد خود بھی خود کشی کر لی۔تو صرف اس وجہ سے ایک گھر سے چار جنازے ایک وقت میں اٹھ