مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 125

مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم 125 ارشادات حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی تو یہ چیز کہ ہم پیار محبت کی وجہ سے اکٹھے رہ رہے ہیں، اس پیار محبت سے اگر نفرتیں بڑھ رہی ہیں تو یہ کوئی حکم نہیں ہے، اس سے بہتر ہے کہ علیحدہ رہا جائے۔تو ہر معاملہ میں جذباتی فیصلوں کی بجائے ہمیشہ عقل سے فیصلے کرنے چاہئیں۔قرآنی دلیل اس آیت کی تشریح میں کہ لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوْا مِنْ بُيُوتِكُمْ اَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُؤْتِ أُمَّهَتِكُمْ أَوْبُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ اَوْ بُيُوتِ اَخَوَاتِكُمْ (النور:62) کہ اندھے پر کوئی حرج نہیں ، لولے لنگڑے پر کوئی حرج نہیں، مریض پر کوئی حرج نہیں اور نہ تم لوگوں پر کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے کھانا کھاؤ ، حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں لوگ اکثر اپنے گھروں میں خصوصاً ساس بہو کی لڑائی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔اگر قرآن مجید پر عمل کریں تو ایسا نہ ہو۔فرماتے ہیں دیکھو ( یہ جو کھانا کھانے والی آیت ہے ) اس میں ارشاد ہے کہ گھر الگ الگ ہوں ، ماں کا گھر الگ اور شادی شدہ لڑکے کا گھر الگ تبھی تو ایک دوسرے کے گھروں میں جاؤ گے اور کھانا کھاؤ گے۔تو دیکھیں یہ جولوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم ماں باپ سے علیحدہ ہو گئے تو پتہ نہیں کتنے بڑے گناہوں کے مرتکب ہو جائیں گے اور بعض ماں باپ بھی اپنے بچوں کو اس طرح خوف دلاتے رہتے ہیں بلکہ بلیک میل کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے گھر علیحدہ کرتے ہی ان پر جہنم واجب ہو جائے گی۔تو یہ انتہائی غلط رویہ ہے۔میں نے کئی دفعہ بعض بچیوں سے پوچھا ہے، ساس سسر کے سامنے تو یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں بلکہ ان کے بچے بھی یہی کہتے ہیں لیکن علیحدگی میں پوچھو تو دونوں کا یہی جواب ہوتا ہے کہ مجبوریوں کی وجہ سے رہ رہے ہیں۔اور آخر پر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بہو ساس پر ظلم کر رہی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ساس بہو پر ظلم کر رہی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو محبتیں پھیلانے آئے تھے۔پس احمدی ہو کر ان محبتوں کو فروغ