مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 151
151 مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی تو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم اور مسلمانوں کے لئے بغض اور کینہ انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔جس کا اظہار اس نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ان صاحب کا نام ہے خیرت ولڈرز (Geert) (Wilders۔کیتھولک گھر میں یہ پیدا ہوا لیکن رپورٹ کے مطابق مذہب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ان لوگوں کو بھی جب اپنے مذہب میں سکون نہیں ملتا اور سمجھ نہیں آتی۔خدا تک تو پہنچ نہیں سکتے تو پھر اسلام کو بھی برا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں، اس پر الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔بہر حال یہ صاحب کافی پرانے اسلامی تعلیم پر اعتراض کرنے والے ہیں۔برقع کے خلاف بھی جو سب سے پہلے ہالینڈ میں مسئلہ اٹھا تھا، یہی اس میں پیش پیش تھا۔بظاہر مذہب سے لاتعلق ہے لیکن اسلام کے خلاف بغض کی وجہ سے عیسائیت اور یہودیت کو بقول اس کے اسلام سے بہتر سمجھتا ہے۔سمجھے لیکن اگر عقل رکھتا ہے تو اس زمانے میں جب مغربی ممالک کو تہذیب یافتہ ہونے کا دعویٰ ہے اور یہ صاحب اپنے آپ کو پڑھا لکھا بھی کہتے ہیں، ممبر آف پارلیمنٹ بھی ہے، تو پھر دوسرے مذاہب کے بارے میں بیہودہ گوئی کرنے کا ان لوگوں کو حق نہیں پہنچتا۔چند افراد کے ذاتی فعل سے اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی باتیں کرے کہ کوئی بھی عقلمند اور پڑھا لکھا انسان نہیں کر سکتا۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر وہ آج ہالینڈ میں ہوتے تو نعوذ باللہ دہشت گرد قرار دے کر ملک سے نکالتا۔تم نے کیا نکالنا ہے تم تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ زمانہ دیکھنے والے ہو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کی اکثریت ہر جگہ دیکھو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے لے کر آج تک کیا کیا کوششیں ہیں جو آپ کے مخالفین نے نہیں کیں۔کیا وہ کامیاب ہو گئے ؟ آج دنیا میں ہر جگہ، ہر ملک میں ، چاہے وہاں مسلمانوں کی تعداد تھوڑی ہے یا زیادہ ہے روزانہ پانچ وقت بلند آواز سے اگر کسی نبی کا نام پکارا جاتا ہے تو وہ اس رحمتہ للعالمین کا نام ہے۔جس کا دل با وجود ان مخالفتوں اور مخالفین کی گھٹیا حرکتوں کے انسانیت کا حق ادا کرنے کے ناطے ہر وقت ہر ایک کے لئے ہمدردی کے جذبات سے پر تھا۔پھر کہتا ہے کہ قرآن کے احکامات ایسے ہیں کہ نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر علیحدہ کر دینا چاہئے۔ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ تم عملا تولا مذہب ہو لیکن جن مذاہب کو اسلام سے بہتر سمجھتے ہو، ان کی تعلیم کا قرآن کریم کی تعلیم سے مواز نہ تو عقل کی آنکھ سے کر کے دیکھو۔تعصب سے پاک نظر کر کے پھر قرآن کا مطالعہ کرو