مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 168
168 مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اپنی پیدائش کے اصل مقصد کو بھول کر جانوروں کی طرح صرف نفسانی خواہشات کا غلام ہو جائے تو پھر وہ جو مالک ہے جس نے انسان کے اور حیوان کے درمیان فرق کے لئے حدود قائم کی ہوئی ہیں وہ اپنی صفت مالکیت کے تحت اس دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور آخرت میں ان حدود کو توڑنے کی وجہ سے کیا سلوک ہونا ہے وہ بہتر جانتا ہے۔پس انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اس کو یہ سوچنا چاہئے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے قانون پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وہ کس قدر تباہی کی طرف جا رہا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے یہاں تو آتا ہی ہے آئندہ جہان میں بھی آسکتا ہے۔اس لئے صرف یہ سوچ کر کہ اگلا جہان پتہ نہیں ہے بھی کہ نہیں اور اس میں کوئی سزا ملنی بھی ہے کہ نہیں ، غلاظتوں اور گناہوں میں پڑ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو پھر غلط کاریوں اور گناہوں کی وجہ سے اس دنیا میں بھی سزا ملتی ہے۔لیکن اگر احساس ہو کہ سزا ہے تو پھر آدمی اصلاح کی کوشش بھی کرتا ہے۔بعض لوگوں کی تو یہ حس ہی ختم ہو جاتی ہے۔جانور پن پوری طرح حاوی ہو جاتا ہے اور باوجود اس سزا سے گزرنے کے یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہم کن غلاظتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔پس ہر عقلمند انسان کو اپنے ماحول کے نمونوں کو دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جو جزا سزا کے دن کا مالک ہے انسان کی غلطیوں کی وجہ سے بعض کو اس دنیا میں بھی سزا کے جو نمونے دکھاتا ہے تو یہ بات ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والی اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے۔بظاہر چھوٹی چھوٹی برائیوں سے بھی بچیں ان ملکوں میں بعض برائیاں ایسی ہیں جن سے بچنے کے لئے خاص طور پر نو جوانوں کو بہت کوشش کرنی چاہئے۔شروع شروع میں بعض چھوٹی چھوٹی برائیاں ہوتی ہیں پھر بڑی برائیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور پھر اگر ان حرکتوں کے بدنتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہو جائیں تو یہ جہاں ایسے لوگوں کے لئے سزا ہے وہاں ان کے ماں باپ عزیزوں رشتہ داروں خاندان کو بھی معاشرے میں شرمسار کرنے والے ہوتے ہیں۔ان کو بھی معاشرے کی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پس ان چیزوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں قائم کرتے ہوئے ، اس بات کا احساس کرتے ہوئے کہ وہ گناہوں سے بچانے والا بھی ہے اور گنا ہوں کو معاف