مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 5
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 5 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سنبھال سکتیں۔نہ (دعوت الی اللہ) کر سکتی ہیں۔گاؤں میں رہنے والوں کی مثال تو میں نے نجی کی دی ہے یہ میرا وہاں کا جائزہ تھا۔یہاں نسبتاً پڑھی لکھی عورتیں آئی ہیں لیکن یہاں آ کر حالات بہتر ہونے کی وجہ سے ان عورتوں کی دلچسپیاں نہ بدل جائیں۔ایمان میں مضبوطی تبھی پیدا ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو۔اور پھر یہ ہے کہ اپنے دینی علم میں اضافہ کرنے کی کوشش ہو۔پس عورتوں کو بھی دینی علم سیکھنے کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔خاص طور پر ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ طبقے میں دینی علم سکھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اور پھر ایک مہم کی صورت میں ہر مرد ، عورت، جوان، بوڑھا احمدیت کا پیغام پہنچانے کی کوشش میں لگ جائے اس سے جہاں آپ کی اپنی حالت بہتر ہوگی، اپنی تربیت کی طرف توجہ پیدا ہوگی وہاں (دعوت الی اللہ ) کے لئے بھی نئے نئے راستے کھلتے جائیں گے۔وہاں بعض خاندانوں کے یہ مسائل بھی حل ہوں گے جو احمدی بچوں کے دوسرے مذاہب میں رشتے کی وجہ سے، شادیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ پھر علم ہونے کی وجہ سے اور اس علم کو پھیلانے کی وجہ سے خلاف تعلیم رشتوں کی طرف زیادہ رجحان نہیں رہے گا۔اور پھر اس کے ساتھ ساتھ قربانی کے معیار بھی بڑھ رہے ہوں گے۔غیروں سے رشتہ ناطہ کے نقصانات میں رشتوں کی بات کر رہا تھا۔ضمنا یہاں یہ بھی بتا دوں کہ مجھے پتہ ہے رشتوں کے بڑے مسائل ہیں خاص طور پر لڑکیوں کے رشتوں کے کیونکہ میں نے عموماً دیکھا ہے شاید چھوٹی جگہوں پر بھی ہوں۔نجی وغیرہ میں ماشاء اللہ لڑ کیاں پڑھی لکھی ہیں۔یہاں بھی رشتے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی اور جگہوں پر بھی ہیں۔اس کے لئے ایک تو جماعت کا رشتہ ناطہ کا نظام ہے اس کو فعال ہونا چاہئے۔اور ویسے اگر پتہ لگے تو باہر بھی کوشش ہو سکتی ہے۔اس لئے یہ جو آپ کے یہاں چار پانچ ملک ہیں ان میں با قاعدہ اس کا ہر جگہ ریکارڈ رکھا جانا چاہئے۔۔۔۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، جائزہ لیں تو یہ 100 فیصد حقیقت نظر آئے گی کہ ان ملکوں میں بعض خاندان اس لئے بھی ابتلا میں پڑ گئے کہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ غیروں میں شادیاں کرنے سے نسلیں برباد ہو جاتی ہیں اور دین سے دور چلی جاتی ہیں۔کئی ایسے دور ہٹے ہوئے ہیں جن کو اب ہٹنے کا احساس ہو رہا ہے۔یہاں جو خاندان آئے ہیں ان کے حالات اپنے پہلے ملک کی نسبت