مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 143
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 143 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی پھر یہ نہیں ہے کہ اس پر اصرار کرتے چلے جائیں۔اور جب اصرار کریں گے تو بہر حال پھر تعزیر ہوگی اور جب تعزیر ہو جاتی ہے تو پھر اس پر یہ حوالے نہیں دینے چاہئیں کہ رحم کا سلوک ہونا چاہئے۔سزا کی وجہ سے بعض دفعہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنا ہوتی ہے۔تو جن کے حقوق مارے ہوتے ہیں وہ تو بہر حال ادا کرنے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ نظام جماعت کے تعلق میں بے قاعد گیاں ہوئی ہوتی ہیں ان بے قاعد گیوں کا جب تک مداوا نہ ہو جائے تو بہر حال ایک سزا تو ہے اور سزا اصلاح کے لئے ہوتی ہے۔اس لئے اس میں اور رحم میں ہر ایک کو فرق سمجھنا چاہئے۔بہر حال یہ ضمنا بات آ گئی۔خدام واطفال کو بزرگوں کے ادب کی ہدایت پھر ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، زربی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ بوڑھا آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے آیا۔لوگوں نے اسے جگہ دینے میں سستی سے کام لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بزرگوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب فی رحمۃ الصبیان ) تو جہاں بڑی مجلس ہو ، جمعوں پہ، جلسوں پر گھروں میں بھی بعض دفعہ یہ ہوتا ہے۔انصار اللہ کے اجتماع پر بھی میں نے ایک دفعہ خدام اطفال کو کہا تھا جبکہ بڑی عمر کے لوگ کھڑے اور چھوٹی عمر کے بیٹھے ہوئے تھے تو ان کو جگہ دینی چاہئے۔تو یہ خلق بھی ایسا ہے جو ہر احمدی میں، بچے میں ، جو ان میں ، مرد میں عورت میں نظر آنا چاہئے جس سے پھر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں سے بھی حصہ لے رہے ہوں گے۔آپ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔تو جو ہم میں سے نہیں ہوگا وہ دعاؤں سے حصہ کیسے لے گا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں سے حصہ لینے کے لئے جو آپ نے امت کے لئے کیں، ہر ایک کو ہر عمل کی کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کے علاوہ پھر معاشرے میں بھی محبت اور پیار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔۔الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 فروری 2007 ء