مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 142
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 142 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرموده 26 جنوری 2007ء سے اقتباس سزا اصلاح احوال کے لئے ہوتی ہے لیکن یہاں ایک وضاحت کر دوں کیونکہ عموماً اس مضمون پر کوئی بات کروں تو اکثر ایسے لوگ جو سزا یافتہ ہیں ان کے خطوط آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ کہتے تو رحم کے بارے میں ہیں لیکن ہم پر رحم نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام تعلقات میں ایک دوسرے کو رحم کی تلقین فرمائی ہے۔اسی طرح عام معاملات میں عمومی صرف نظر نظام جماعت کے لئے بھی ہے، خلیفہ وقت کے لئے بھی ہے، لیکن جو لوگ کسی چیز پر اصرار کرنے والے ہوں، جس کا میں نے پہلے ذکر کر دیا۔ان کو پھر اگر سزامل جائے تو وہ سزا ہے، اس کو بھی لینا چاہیئے۔اب دیکھیں جب ایک جنگ میں بعض صحابہؓ صحت ہونے کے باوجود شامل نہیں ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطع تعلقی کر لی اور پھر ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا کہ اُن سے کوئی تعلق نہیں رکھنا۔اُن میں سے ایک ایسے بھی تھے جن کی عمر زیادہ تھی لیکن اس سزا کی وجہ سے سارا دن روتے تھے اور بستر پر پڑے رہتے تھے اور اتنے کمزور ہو گئے تھے کہ ان کی بیوی نے کہا کہ ان کی تو یہ حالت ہے۔کیا مجھے اتنی اجازت ہے کہ میں کھانا وغیرہ پکا کر ان کو دے سکوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔تو یہ حالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آگئی کہ چار پائی سے اٹھ نہیں سکتا۔سارا دن استغفار پڑھ رہا ہے۔روتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود آپ نے یہ نہیں کہا کہ معاف کرتا ہوں آپ کو۔رحمتہ للعالمین تھے۔رحم کا جذ بہ تو اندر تھا لیکن ایک سزا تھی جو اصلاح کے لئے ضروری تھی۔تو جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا اعلان نہیں ہو گیا اس وقت تک انہوں نے سزا کاٹی۔اس لئے سزا لینے والے جولوگ ہیں ایک تو یہ ہے کہ ان کو ویسے بھی یہ احساس کرنا چاہئے کہ بات پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔اگر غلطی کی ہے تو اس غلطی کا پھر مداوا ہونا چاہئے۔