مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 137

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 137 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ عید الاضحیة فرموده 31 / دسمبر 2006ء (خلاصه) * حضور انور نے واقفین نو کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک جماعت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال پر اخلاص و وفا کے نمونے قائم ہیں، جماعت کے افراد انہیں پیش کرتے رہیں گے اور قیامت تک جو بھی خلیفہ ہوگا وہ اس کی طرف توجہ دلاتا رہے گا اور جماعت وفا دکھاتی رہے گی تو انشاء اللہ جماعت ہمیشہ ترقی میں بڑھتی جائے گی۔واقفین نو کے والدین کو قیمتی نصائح واقفین نو کے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے حضور انور نے حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہا السلام کی قربانی کا ذکر کر کے فرمایا کہ حضرت اسماعیل کا جواب ماں باپ کی تربیت کا نتیجہ تھا۔پس ان بچوں کے والدین بھی یہی نمونہ دکھا ئیں اور اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ وہ کہیں وقتی جوش سے تو اپنے بچوں کو وقف نہیں کر رہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک پاک اور مستقل جذبہ ہونا چاہئے جس میں حضرت ہاجرہ اور حضرت ابراہیم کی قربانی کی جھلک نظر آئے۔اگر ایسا نہیں تو پھر یہ تقویٰ سے گری ہوئی قربانیاں ہیں ، جن میں پھر بعض اوقات بچے کہہ دیتے ہیں کہ میں نے وقف نہیں کرنا یا بچہ کا معیار اتنا گرا ہوتا ہے کہ جماعت اسے نہیں لیتی بعض بچے بازاری لڑکوں کے سے حلیے بنالیتے ہیں اور پوچھنے پر بعض یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنگر بننا ہے۔اب ان باتوں کا وقف سے کیا تعلق لیکن اگر تقویٰ کے نمونے قائم کریں گے اور اس کے مطابق تربیت کریں گے تو پھر اسماعیلی جواب ملے گا۔پہلے دن سے ہی بچوں کو قربانیوں کی اہمیت بتا ئیں اور اپنے پاک نمو نے ان کے سامنے رکھیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بچوں میں دینی علم اور قربانی کے جذ بہ کا معیار کم ہوتا جاتا ہے، قرآن کریم بھی ٹھیک پڑھنا نہیں آتا۔اس حوالہ سے میں تمام جامعہ کے طلباء کو کہتا ہوں کہ جب آپ نے خود کو وقف کیا ہے تو پھر اعلیٰ معیار حاصل کریں۔اگر آدھا دین اور آدھی دنیا کے چکر میں رہنا ہے تو پھر وقف کا کوئی فائدہ نہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو وقف کی روح کو سمجھتے ہوئے اس کے تقاضے پورے کرنے والا بنائے۔الفضل انٹر نیشنل 2 تا 8 فروری 2007ء)