مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 134
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 134 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نیشل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ جرمنی کے ساتھ میٹنگ (25 دسمبر 2006ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کی نیشنل عاملہ کے ساتھ میٹنگ فرمائی، تمام شعبہ جات کا جائزہ لیا ، تمین سے ان کے کام کی تفصیل دریافت فرمائی اور درج ذیل ہدایات سے نوازا۔1۔جن مجالس کی طرف سے رپورٹس نہیں آتیں، ان سے ہر ماہ رابطہ ہونا چاہئے۔2۔جن لڑکوں کے شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان تنازعات شروع ہو جاتے ہیں ، ایسے لڑکوں کو سمجھانے کیلئے شعبہ تربیت کے تحت پروگرام بننے چاہئیں۔ایسے لڑکوں کی موٹی موٹی تین اقسام ہیں۔ایک وہ جو پاکستان سے لڑکیاں بیاہ کر لاتے ہیں اور پھر یہاں آکر پسند نا پسند کا مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔دوسرے جو یہاں رشتے ہو رہے ہوتے ہیں اور کچھ عرصہ کے بعد ختم ہو جاتے ہیں اور تیسرے وہ لڑ کے جو پاکستان وغیرہ سے آکر یہاں شادی کرتے ہیں، ایسے لڑکے زیادہ تر کام نکل جانے کے بعد دوڑ جانے والے ہوتے ہیں۔ان تمام لڑکوں کو سنبھالیں ، ان کے مسائل کی وجوہات معلوم کر کے انہیں سمجھانے کی کوشش کریں۔3- خدام الاحمدیہ یو کے کے اجتماع پر میں نے توجہ دلائی تھی اور کل انصار اللہ کی میٹنگ میں بھی انہیں کہا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث کی خواہش تھی کہ جو بلی کا سال جب آئے تو جماعت احمدیہ کو ڈاکٹر عبد السلام صاحب جیسے سوسائنسدان چاہئیں تو ایسی صلاحیت رکھنے والے طلباء کو تلاش کریں، ان کی راہنمائی کریں اور انہیں سائنس کے مختلف مضامین میں ریسرچ کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔4۔میں نے جماعتی اداروں اور ذیلی تنظیموں کو ہدایت دی ہوئی ہے کہ رسائل وغیرہ کے ٹائٹل پر آئندہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصاویر شائع نہ کی جائیں۔5۔جماعتی بلڈنگز میں خدام الاحمدیہ کو پھول پھلواڑیاں لگانے کا کام سنبھالنا چاہئے ، جیسا کہ میرے توجہ