مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 84

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 84 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی عنوانات پر مختلف Topics پر، موضوعات پر آزادی اظہار کا نام دے کر گفتگو ہورہی ہو تو ایسی صورت میں، ان حالات میں ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جب نفس امارہ بڑی تیزی سے اپنا اثر دکھاتا ہے۔شیطان بڑا Active ہو کر انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ نا شروع ہو جاتا ہے۔دنیاوی رنگ میں اس کی مثال یہ ہے، کہتے ہیں کہ ملیریا بخار جب ہو جائے اور ایسے علاقوں میں جہاں مچھروں کی بہتات ہو، بار بار بخار ہوتا ہواگر بخار اتر بھی جائے اور ان علاقوں سے انسان دوسری جگہ منتقل بھی ہو جائے تب بھی ملیر یا پیراسائٹ جو ہیں وہ انسان کے جگر میں جگہ بنا کر بیٹھے رہتے ہیں اور جب بھی انسان کمزور ہو، کسی بیماری کا حملہ ہو تو فوراًحملہ کرتے ہیں۔عموماً افریقہ میں رہنے والوں یا پاکستان کے ایسے علاقوں میں یا دوسرے علاقوں میں جہاں مچھروں کی بہتات ہے، رہنے والوں کو کوئی بھی بیماری ہو تو ساتھ ملیر یا ضرور ہوتا ہے۔تو شیطان بھی اسی طرح دل میں جگہ بنا کر بیٹھ جاتا ہے اور جب بھی دل میں ٹیڑھ پیدا ہو، انسان کی دینی حالت میں کوئی کمزوری آئے یہ نفس امارہ کو ابھارتا ہے بلکہ یہ تو ملیر یا پیرا سائٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ تو خون کے ساتھ جسم میں مستقل دوڑ رہا ہے۔پس جب نفس امارہ برائیوں کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے تو شیطان کی جو گردش ہے وہ خون میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتی ہے اور آنافا نا اپنی لپیٹ میں لے کر برائیاں کروا دیتی ہے اور بعض دفعہ بعض لوگوں کو ایسی Temptation ہو جاتی ہے، یہ اس طرح جذبات کو قابو میں کرتی ہے کہ انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے اور پھر اگر کوئی نیکی ہو تو بعض دفعہ برائی کرنے کے بعد خیال آتا ہے کہ اوہو یہ کیا ہو گیا۔میں کس گند میں پھنس گیا۔پس اس Temptation سے بچنے کیلئے ، شیطان کو دبائے رکھنے کیلئے استغفار کی ضرورت ہے تا کہ وہ کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر مزید کمزوریوں میں مبتلا کرنے کیلئے حملہ نہ کر دے۔پس یہ استغفار صرف گناہ سے معافی مانگنا نہیں ہے بلکہ گناہ سے بچنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔میں نے Students کو مخاطب کر کے کہا ہے لیکن یہی حال ان مغربی ملکوں میں نئے آنے والوں کا ہے جو پاکستان سے یا ہندوستان وغیرہ یا دوسرے ملکوں سے آئے ہیں۔اس نام نہاد آزادی کی فضا میں قدم رکھتے ہی بعض برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اس لئے اس سے بچنے کی کوشش کریں اور اگر کوئی غلطیاں ہوگئی ہیں تو پھر بھی اللہ تعالی کی پناہ میں آنے کیلئے استغفار کریں۔سچی توبہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا ہے ، بخشنے والا ہے، آئندہ نیکیوں کی تو فیق دینے والا ہے۔