مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 45

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 45 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی واقفین نو جرمنی کے ساتھ میٹنگ * سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی پر جرمنی کے خوش نصیب واقفین نو کی میٹنگ حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ساتھ مورخہ 9 جون 2006ء کو ہوئی۔تلاوت قرآن کریم کے بعد حضور انور نے واقفین نو کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف سوالات دریافت فرمائے کہ سارے واقفین نو ہیں؟ پندرہ سال سے سب او پر ہیں؟ کتنے ہیں جو جامعہ میں جانا چاہتے ہیں؟ اس سال کون کون جانے والے ہیں یا ارادہ رکھتے ہیں؟۔اس کے علاوہ باقی کون ہیں جو ڈاکٹر ز بننے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ واقفین اپنی دلچسپی کے شعبوں میں جائیں فرمایا کہ واقفین نو میں سے کچھ کو سوچنا چاہئے کہ ڈاکٹر بھی بن جائیں۔جو ہوشیار ایسے لڑکے ہیں، گو کہ جامعہ میں جانے والے بھی ہوشیار ہی ہونے چاہئیں۔لیکن جن کو سائنس سے دلچسپی ہے بیالوجی سے دلچسپی ہے میڈیسن سے کوئی دلچسپی ہے۔لیکن صرف وہ اپنے دوستوں کے کہنے کی وجہ سے یا اپنے ماں باپ کے کہنے کی وجہ سے یا اپنے مشنریز کے کہنے کی وجہ سے جامعہ میں جانا چاہ رہے ہیں۔وہ دوبارہ سوچ لیں کیونکہ کسی کو بھی پابند نہیں کیا جاسکتا۔نیز واقفین نو سے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے جامعہ میں جانا ہے؟ حضور انور نے فرمایا کہ اگر جامعہ احمدیہ میں اتنے زیادہ طلباء کی گنجائش نہ ہو یا کوئی جامعہ احمدیہ میں داخلہ کے معیار پر پورا نہ اتر سکے تو پھر جامعہ کے علاوہ سوچنا چاہیے کہ کن مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔یعنی اگر کسی نے یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنی ہے تو اس نے مختلف مضامین کا تعین کیا ہوتا ہے کہ اگر فلاں مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ نہ ملاتو میں دوسرے مضمون میں اپنی تعلیم مکمل کر لوں گا۔حضور انور نے فرمایا کہ پندرہ سال سے اوپر کے واقفین نو کی سوچ بہت پختہ ہونی چاہیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بعض واقفین سے ان کے مستقبل اور تعلیمی صورتحال اور جرمنی