مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 33

33 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم جو لوگ تھے مذہب سے جن کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔زنا ،شراب ، حرام خوری، جوا، ہرقسم کی برائی جو تھی اُس کے وہ لوگ عادی تھے۔یہاں تک کہ بعض خاندانوں قبیلوں میں اگر کوئی شخص فوت ہو جا تا تھا تو اُس کا بیٹا، اس کی جو بیوی تھی جو اس بچے کی سوتیلی ماں تھی اُس سے بھی شادی کرنا جائز سمجھتے تھے۔بالکل اخلاق باختہ، اخلاق سے گرے ہوئے لوگ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں وہ انقلاب پیدا کیا ایک ایسی تعلیم دی جن سے وہ مذہبی اور سیویلا ئیز ڈلوگ کہلانے کے قابل ہوئے اور پھر اس سے بڑھ کر ان کی روحانیت میں اُن کو اتنی ترقی دی کہ ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو گیا۔تو آپ لوگ یا ہم لوگ تو اس نبی کے ماننے والے ہیں جس نے ایسی قوم میں انقلاب پیدا کر دیا۔جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ اس میں کوئی انقلاب آسکتا ہے۔ان میں ایسی تبدیلیاں آسکتی ہیں اور وہی لوگ تھے جو یا تو شراب اور جوئے کے رسیا، اُس میں ڈوبے ہوئے اور وہی لوگ تھے جنہوں نے حکم ملتے ہی شراب کے جو جار تھے، مٹکے تھے اور گھڑے تھے تو ڑ دیئے، وہی لوگ تھے جو اپنی گردنیں کٹانے کے لئے اسلام کی خاطر تیار ہو گئے۔وہی لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر مر مٹنے کے لئے تیار ہو گئے۔تو یہ جو ہم تاریخ پڑھتے ہیں یا واقعات سنتے ہیں یا ہمیں بتائے جاتے ہیں وہ اس لئے نہیں کہ کہانیاں تھیں ہم نے سنیں اور مزا لیا اور اُن کی جو قربانیاں تھیں اُن لوگوں کی اُن کی تعریف کی اور واہ واہ کر کے خاموش ہو گئے۔ان لوگوں کو تو آپ کی تعریف کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اُن لوگوں کو تو اللہ اور ان کے رسول نے جنت کی خبریں دے دی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی رضا کی خبر دے دی تھی۔وہ صحابہ جو تھے اُن سے تو اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ہے۔لیکن یہ باتیں ہمیں اس لئے بتائی جاتی ہیں اور ہم اس لئے سنتے ہیں یا ہمیں اس لئے پڑھنی چاہئیں اور سنی چاہئیں کہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی وہ انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ویسا بننے کی کوشش کریں۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا ما حول میسر فرما دیا کہ ایک تعلیمی ماحول بھی میسر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے، ایک جماعتی ماحول بھی میسر ہے جہاں ہر طبقے کا، ہر عمر کے لڑکے کا ، ہر بچے کا ایک ذیلی تنظیم کے ساتھ بھی تعلق ہے جہاں اگر وہ چاہے تو تربیت کے جتنے بھی پروگرام ہیں اُن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اپنی روحانی اور اخلاقی تربیت کے جتنے بھی پروگرام ہیں اُن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اپنی روحانی اور اخلاقی تربیت میں بہتری پیدا کر سکتا ہے۔